ریاستی و حکومتی سطح پر شفافیت، احتساب اور عوامی اعتماد کا جائزہ لیا گیا
اسلام آباد: ایم این این
مشعل پاکستان نے پاکستان ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2026 جاری کردی۔ رپورٹ میں پاکستان میں ریاستی اور حکومتی سطح پر شفافیت، احتساب، اداروں کی کارکردگی اور عوامی اعتماد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مشعل پاکستان اس سے قبل پاکستان ریفارمز رپورٹ اور پاکستان فریڈم رپورٹ بھی جاری کر چکا ہے۔ رپورٹ کی تیاری کے لیے ملک بھر سے 2 ہزار افراد کی رائے لی گئی، سروے میں پاکستان کے تمام علاقوں کے رائے دہندگان شامل ہیں۔ 45 فیصد رائے دہندگان کی عمریں 18 سے 25 سال جبکہ 35 فیصد کی عمریں 26 سے 35 سال کے درمیان ہیں۔ 67 فیصد رائے دہندگان گریجویٹس، 32 فیصد ماسٹرز جبکہ ایک فیصد پی ایچ ڈی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں احتساب کا جامع نظام موجود ہے، شہریوں کے معلومات تک رسائی کے حق کے لیے وفاق اور چاروں صوبوں میں قوانین موجود ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی آڈیٹر جنرل کی سالانہ رپورٹ کی بنیاد پر اداروں اور محکموں کا تفصیلی مواخذہ کرتی ہے۔ آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنے 29 ذیلی دفاتر کے ذریعے 683 آڈٹ مکمل کیے، جن کے ذریعے 224 ارب روپے کی بے قاعدگیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ کے مطابق بڑے ریگولیٹری ادارے باقاعدگی سے سالانہ کارکردگی رپورٹس جاری کر رہے ہیں، جن میں اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، ایف بی آر، نیپرا، نیب، آڈیٹر جنرل اور ایچ ای سی نمایاں ہیں۔
رپورٹ میں شہریوں کے معلومات حاصل کرنے کے ذرائع کا بھی جائزہ لیا گیا۔ 25 فیصد رائے دہندگان نے فیس بک جبکہ 20 فیصد نے واٹس ایپ کو معلومات حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔ 58 فیصد رائے دہندگان نے سوشل میڈیا کی خبروں کو گمراہ کن قرار دیا، 15 فیصد ٹی وی سے معلومات حاصل کرتے ہیں جبکہ کسی رائے دہندہ نے اخبار کو معلومات حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ قرار نہیں دیا۔ 46 فیصد رائے دہندگان نے بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں پر مثبت اعتماد کا اظہار کیا۔ 53 فیصد افراد معاشرے کے دیگر افراد، 63 فیصد واقف لوگوں جبکہ 52 فیصد افراد نے اجنبی لوگوں پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔ ماہرین کے مطابق شہریوں کا ایک دوسرے پر اعتماد مثبت معاشرے کی بنیاد ہے۔
رپورٹ کے مطابق 34 فیصد رائے دہندگان پارلیمنٹ کی مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے کی کوششوں پر اعتماد کرتے ہیں، جبکہ 34 فیصد نے پارلیمنٹ کی پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔ 52 فیصد رائے دہندگان سمجھتے ہیں کہ حکومت طویل المدتی وژن کے مطابق کام کر رہی ہے، 36 فیصد کے مطابق عوامی رائے حکومتی اقدامات پر اثر انداز ہوتی ہے، جبکہ 43 فیصد پالیسی سازوں کی قابلیت پر اعتماد رکھتے ہیں۔ 39 فیصد رائے دہندگان نے پولیس میں اصلاحات کے عمل پر اعتماد کا اظہار کیا، 40 فیصد نے اعلیٰ عدلیہ جبکہ 82 فیصد نے پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مسلح افواج پر اعتماد کا اظہار کیا۔
رپورٹ میں عوام کی مختلف ریگولیٹری اداروں سے واقفیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ 90 فیصد رائے دہندگان پی ٹی اے، 95 فیصد ایف بی آر جبکہ 90 فیصد ایچ ای سی کے کردار سے واقف ہیں۔ 52 فیصد رائے دہندگان کے مطابق ای گورننس پلیٹ فارمز سروس ڈلیوری بہتر بنا رہے ہیں، 54 فیصد سمجھتے ہیں کہ پاکستان ڈیجیٹل مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ 52 فیصد رائے دہندگان پاکستان کی طویل المدتی سمت کے حوالے سے پرامید ہیں۔



