پشاور ہائی کورٹ نے ‘قائدِ اعظم’ نامی شہری کی بے دخلی روک دی

پشاور (ایم این این): پشاور ہائی کورٹ نے پیر کے روز ‘قائدِ اعظم’ نامی درخواست گزار کو ملک بدر کرنے سے متعلق کسی بھی کارروائی سے روک دیا اور ہدایت کی کہ وہ اپنے بلاک شدہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کی تصدیق کے لیے نادرا کے ویریفیکیشن بورڈ کے سامنے پیش ہوں۔

جسٹس وقار احمد اور جسٹس عنایت اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نادرا کی جانب سے شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل سیف اللہ محب کاکاخیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مؤکل پاکستان اور دبئی میں کاروبار کرتا ہے، باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتا ہے اور پاکستانی شہری ہے، تاہم شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باعث اسے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نادرا نے ان کے مؤکل سے اس کے چچا کو ویریفیکیشن کے لیے پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے، حالانکہ خاندان کے دیگر افراد کے پاس بھی پاکستانی شناختی کارڈ موجود ہیں۔

نادرا کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل شاہد عمران گیگیانی نے عدالت کو بتایا کہ ادارہ اپنا جواب جمع کرا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کے شناختی ریکارڈ کو مشکوک قرار دیا گیا، جس کی بنیاد پر اس کا قومی شناختی کارڈ بلاک کیا گیا۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست گزار کو نادرا کے ویریفیکیشن بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت جاری کی اور حکم دیا کہ تصدیقی عمل مکمل ہونے تک اسے ملک بدر نہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں