کراچی/اسلام آباد (ایم این این)؛ جماعت اسلامی کی پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر ہڑتال کے دوران کراچی کے علاقے کورنگی کراسنگ پر مبینہ طور پر موٹر سائیکلوں اور ٹائروں کو آگ لگا کر سڑک بند کرنے کے الزام میں جماعت اسلامی کے چھ کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد نے مبینہ طور پر ایک کباڑی سے دو پرانے موٹر سائیکل اور ٹائر حاصل کیے اور انہیں کورنگی کراسنگ پر آگ لگا دی تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر ہو۔
پولیس نے چھ ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تاہم جماعت اسلامی نے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کورنگی کراسنگ پر آگ لگانے کی کارروائی میں نامعلوم شرپسند عناصر ملوث تھے اور حکومت پرامن احتجاج کو دبانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔
سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کی۔ انہوں نے سندھ پولیس کے سربراہ سے رپورٹ بھی طلب کی اور کہا کہ کسی کو کراچی کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی پاکستان کے درمیان پیٹرولیم لیوی میں کمی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تجاویز مرتب کرنے کی غرض سے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
یہ فیصلہ لاہور میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت ایک ماہر کمیٹی تشکیل دے گی جبکہ جماعت اسلامی سے بھی اپنی کمیٹی بنانے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ دونوں فریق مل کر پیٹرولیم لیوی میں کمی اور عوامی ریلیف کے لیے قابل عمل تجاویز پر غور کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کمیٹیوں کی جانب سے پیش کی جانے والی قابل عمل سفارشات پر غور کرے گی اور مناسب تجاویز پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنے 19ویں روز میں داخل ہو چکے ہیں اور ملک بھر میں 20 سے زائد مقامات پر احتجاج جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کا مقصد عوام کو درپیش مسائل، مہنگائی، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسوں کے بوجھ کو اجاگر کرنا ہے۔
حافظ نعیم نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ایک مذاکراتی و ماہر کمیٹی تشکیل دی ہے۔ جماعت اسلامی کے اہم مطالبات میں پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ یا اس میں نمایاں کمی، پیٹرول کی قیمتوں میں کمی، بجلی کے نرخوں میں کمی اور بنیادی اشیائے خورونوش کو سستا کرنا شامل ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے، تاہم عوام کو حقیقی ریلیف ملنے تک جماعت اسلامی کے دھرنے بھی جاری رہیں گے۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور جماعت اسلامی کی کمیٹیاں دو ہفتوں کے اندر کسی قابل عمل حل تک پہنچ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مفید اور قابل عمل سفارشات پر عمل درآمد کرے گی۔
پیٹرولیم لیوی، بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتوں اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی ملک گیر ہڑتال کو ملک کے مختلف حصوں میں ملا جلا ردعمل ملا۔
کراچی، سندھ کے کئی علاقوں، خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع اور بلوچستان کے کچھ شہروں میں مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہے، جبکہ راولپنڈی، پنجاب کے کئی علاقوں اور کوئٹہ میں کاروباری سرگرمیاں زیادہ تر معمول کے مطابق جاری رہیں۔
لاہور میں ہڑتال کے معاملے پر جماعت اسلامی کے کارکنوں اور تاجروں کے درمیان مبینہ طور پر تلخ کلامی اور جھڑپ بھی ہوئی، جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ان کی جماعت پُرامن سیاسی مزاحمت پر یقین رکھتی ہے اور ملک گیر ہڑتال کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو جماعت اسلامی ممکنہ لانگ مارچ کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کرے گی۔
ملک میں بڑھتی ہوئی پٹرولیم قیمتوں، مہنگائی اور بجلی کے بھاری بلوں کے باعث عوامی تشویش میں اضافے کے درمیان وفاقی حکومت پر معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔



