اسلام آباد (ایم این این): اسلام آباد پولیس کی خاتون اہلکاروں پر بدسلوکی کے الزامات سے متعلق تنازع اس وقت ختم ہوگیا جب چینی شہری خاتون نے اپنے تمام الزامات واپس لیتے ہوئے واقعے کو ایک غلط فہمی قرار دیا اور پولیس سے معذرت کر لی۔
یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں چینی خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ کوہسار تھانے میں تعینات خواتین پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف-6 میں کرایہ داری اور مالی معاملات سے متعلق ایک تنازع سے شروع ہوا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ چینی خاتون نے خود ہی پولیس کو مدد کے لیے طلب کیا تھا تاکہ معاملہ حل کیا جا سکے۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد اسلام آباد پولیس نے فوری طور پر محکمانہ انکوائری کا حکم دیا۔ ایس ایس پی آپریشنز نے اے ایس پی کوہسار کو واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
بعد ازاں جاری کیے گئے ایک نئے ویڈیو بیان میں چینی خاتون نے اپنے پہلے الزامات واپس لیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو غلط فہمی کی بنیاد پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا تنازع اپنے مالک مکان کے ساتھ تھا، نہ کہ اسلام آباد پولیس کے ساتھ۔
چینی خاتون نے مزید کہا کہ اسلام آباد پولیس نے پورے معاملے کے دوران ان کے ساتھ پیشہ ورانہ رویہ اختیار کیا، مکمل تعاون فراہم کیا اور ہر ممکن مدد کی۔ انہوں نے پیدا ہونے والی غلط فہمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس سے معذرت بھی کی۔
شکایت کنندہ کی جانب سے وضاحت اور معذرت کے بعد اس معاملے پر پیدا ہونے والا تنازع بڑی حد تک ختم ہوگیا ہے۔ تاہم اسلام آباد پولیس کی جانب سے شروع کی گئی محکمانہ انکوائری سرکاری ضابطہ کار کے مطابق جاری رہے گی تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔



