ہائی کورٹ کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے سے روکنے کا حکم

اسلام آباد (ایم این این)؛

اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مبینہ طور پر تنہائی میں رکھنے کے خلاف دائر درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اڈیالہ جیل حکام کو ہدایت کی ہے کہ دونوں کو تنہائی میں نہ رکھا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ درخواستیں بیگم نصرت بھٹو اور بیگم شمیم آفریدی مقدمات میں طے کیے گئے قانونی اصولوں کی روشنی میں قابلِ سماعت ہیں۔

عدالت نے جیل حکام کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات جیل قوانین کے مطابق کرانے کی بھی ہدایت کی۔

عدالت نے مزید حکم دیا کہ عمران خان کے اہلخانہ کو جیل قوانین کے تحت ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جبکہ ان کے بیٹوں کے ساتھ فون پر بات چیت کے انتظامات بھی کیے جائیں۔

تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اگر فون کالز کی ریکارڈنگ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہو تو یہ سہولت واپس لی جا سکتی ہے۔

ہائی کورٹ نے جیل حکام کو عمران خان کو روزانہ اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے اور جیل قوانین کے مطابق طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو خصوصی طور پر حکم دیا گیا کہ بشریٰ بی بی کو تنہائی میں نہ رکھا جائے اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی رپورٹ 15 روز کے اندر عدالت میں جمع کرائی جائے۔

عدالت نے جیل انتظامیہ کو اپنے احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواستیں نمٹا دیں۔

یہ درخواستیں عمران خان کی بہن علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کی صاحبزادی مبشرہ خاور مانیکا نے دائر کی تھیں، جن میں سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو طویل عرصے سے مبینہ طور پر علیحدہ اور تنہائی میں رکھنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران حکومت اور اڈیالہ جیل حکام نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی میں سے کسی کو بھی تنہائی کی قید میں نہیں رکھا جا رہا بلکہ سکیورٹی خدشات کے باعث دونوں کو الگ رہائش فراہم کی گئی ہے۔

جیل سپرنٹنڈنٹ نے عدالت کو بتایا تھا کہ عمران خان کو ایک ہی سیل میں مسلسل بند نہیں رکھا جاتا اور انہیں سات سیلز پر مشتمل ایک کمپاؤنڈ میں دن کے اوقات میں نقل و حرکت کی اجازت حاصل ہے۔

اسی طرح جیل حکام نے بشریٰ بی بی کے بارے میں بھی کہا تھا کہ انہیں سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر الگ رکھا گیا ہے اور یہ تنہائی کی قید کے زمرے میں نہیں آتا۔

درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے حکومتی مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی پر عائد پابندیاں طویل تنہائی اور ذہنی اذیت کے مترادف ہیں۔ انہوں نے وکلا، اہلخانہ اور کتابوں تک محدود رسائی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

یہ فیصلہ عمران خان کی جیل میں موجود سہولیات اور حراست کی صورتحال پر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری اختلافات کے دوران سامنے آیا ہے۔ حکومت نے تنہائی کی سزا سے متعلق الزامات مسترد کرتے ہوئے مختلف سہولیات کی فراہمی کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے حکومتی مؤقف کو گمراہ کن اور حقائق کے برعکس قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں