نیب کا بڑا ایکشن، سندھ محکمہ تعلیم کی 31 سالہ بھرتیوں کی چھان بین شروع

کراچی: ایم این این

سندھ محکمہ تعلیم میں مبینہ جعلی ڈگریوں اور مشکوک بھرتیوں کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے محکمہ تعلیم سندھ میں 1989 سے 2020 تک بھرتی ہونے والے ملازمین کی ڈگریوں، سروس ریکارڈ اور بھرتیوں کے عمل کی جانچ شروع کر دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں مبینہ جعلی ڈگریوں، غیر حاضر ملازمین اور دیگر بے ضابطگیوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ نیب مختلف اداروں سے متعلقہ ریکارڈ حاصل کر رہا ہے تاکہ حقائق کی روشنی میں تحقیقات کو آگے بڑھایا جا سکے۔دوسری جانب سندھ محکمہ تعلیم نے بھی نظام میں شفافیت لانے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے چہرے کی شناخت (Facial Recognition) پر مبنی جدید حاضری نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ نئے نظام کے تحت اساتذہ اور دیگر ملازمین کی حاضری بائیومیٹرک کے بجائے چہرے کی شناخت کے ذریعے یقینی بنائی جائے گی، جس سے غیر حاضر ملازمین کی مؤثر نگرانی ممکن ہوگی۔ذرائع کے مطابق نیب کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد محکمہ تعلیم میں بے چینی پائی جا رہی ہے اور ہزاروں ملازمین نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے لیے درخواستیں جمع کرانا شروع کر دی ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اب تک 15 ہزار سے زائد تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں، جبکہ مزید درخواستوں کی بھی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ جدید حاضری نظام کا مقصد ادارے میں شفافیت، نظم و ضبط اور احتساب کو فروغ دینا ہے، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں