اسلام آباد (ایم این این): فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی تقریباً دو دہائیوں سے قائم حکومتی انتظامیہ کو تحلیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک نئی ٹیکنوکریٹ انتظامی کمیٹی کے لیے راستہ ہموار کر دیا ہے، جو آئندہ شہری امور سنبھالے گی۔
یہ فیصلہ ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ حماس 2007 سے غزہ کی حکمرانی کر رہی تھی، جب اس نے 2006 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد فتح تحریک کے ساتھ تنازع کے نتیجے میں غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا۔
حماس کے مطابق حکومتی ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا نے باضابطہ طور پر استعفیٰ دے کر کمیٹی کو تحلیل کر دیا ہے تاکہ نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) کو انتظامی اختیارات منتقل کیے جا سکیں۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ تنظیم نے غزہ کی روزمرہ حکمرانی سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جنگ کے خاتمے اور سیاسی عمل میں رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حماس نئی انتظامی کمیٹی کو تمام حکومتی ذمہ داریاں منتقل کرنے کے لیے تیار ہے اور امید ظاہر کی کہ یہ کمیٹی جلد غزہ میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لے گی۔
نئی انتظامی کمیٹی نے ذمہ داریاں سنبھالنے کی تیاری ظاہر کر دی
این سی اے جی کی سربراہی فلسطینی ٹیکنوکریٹ علی شعث کر رہے ہیں۔ یہ کمیٹی اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے بعد پیش کیے گئے بورڈ آف پیس (BoP) کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت قائم کی گئی تھی۔
علی شعث نے کہا کہ ضروری وسائل اور انتظامی سہولیات کی فراہمی کے بعد کمیٹی غزہ کے انتظامی امور سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ نئی انتظامیہ کی کامیابی کے لیے ایک حکومت، ایک قانون اور ایک متحدہ سکیورٹی ڈھانچہ ناگزیر ہے۔
بورڈ آف پیس نے بھی حماس کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ امن منصوبے کے تحت غزہ میں تمام اسلحہ بالآخر این سی اے جی کے کنٹرول میں ہونا چاہیے۔
اسلحہ کی منتقلی بدستور سب سے بڑا مسئلہ
اگرچہ حماس نے حکومتی اختیارات منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم تنظیم نے ابھی تک اپنے اسلحے سے دستبردار ہونے پر رضامندی ظاہر نہیں کی، جس کے باعث جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد تعطل کا شکار ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق حماس کا یہ اقدام ایک اہم علامتی پیش رفت ضرور ہے، لیکن مستقل امن کے لیے سب سے بڑا چیلنج تنظیم کے عسکری ونگ کے مستقبل پر اتفاق رائے ہے۔
قاہرہ میں ثالثوں کی موجودگی میں ہونے والے متعدد مذاکرات کے باوجود جنگ بندی کے دوسرے مرحلے، جس میں حماس کی غیر مسلحی اور اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا کا منصوبہ شامل ہے، پر تاحال پیش رفت نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق اسرائیلی افواج غزہ کے بیشتر علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ حماس کا مؤقف ہے کہ کسی بھی قسم کے اسلحے کی منتقلی پر غور سے قبل ایک بااختیار فلسطینی انتظامیہ کا قیام ضروری ہے۔
غزہ میں جنگ کے بعد حکمرانی کا مستقبل اب بھی مذاکرات کا سب سے اہم اور پیچیدہ معاملہ بنا ہوا ہے، جبکہ اسرائیل نہ تو حماس کی دوبارہ حکمرانی قبول کرنے پر آمادہ ہے اور نہ ہی فوری طور پر فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کا انتظام سونپنے کے حق میں ہے۔



