لاہور میں غیر ملکی خواتین کے اغوا اور اجتماعی زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، تین ملزمان کا ڈی این اے میچ

لاہور (ایم این این): لاہور کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تشدد اور اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں فرانزک تجزیے کے بعد تین ملزمان کا ڈی این اے شواہد سے میچ کر گیا ہے۔

پولیس اور تفتیشی ذرائع کے مطابق متاثرہ خواتین میں ایک کا تعلق وینزویلا جبکہ دوسری کا نیدرلینڈز سے ہے، جنہیں مبینہ طور پر اغوا کے بعد تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

تحقیقات کے دوران پولیس نے آٹھ مشتبہ افراد کے ڈی این اے نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوائے تھے، جن میں سے تین ملزمان کے نمونے فرانزک شواہد سے مطابقت رکھتے ہیں۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم نواز کا ڈی این اے بھی میچ کر گیا ہے۔ الزام ہے کہ اس نے سب سے پہلے متاثرہ خواتین میں سے ایک کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے بعد دیگر ملزمان بھی مبینہ طور پر اس جرم میں شریک ہوئے۔

پولیس کے مطابق دیگر دو ملزمان، ساجد اور سکندر، کے ڈی این اے بھی فرانزک شواہد سے مطابقت رکھتے ہیں، جبکہ باقی نمونوں کی جانچ کا عمل جاری ہے۔

اس مقدمے میں پولیس نے محمد رضا ڈار سمیت پانچ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ تفتیشی حکام کے مطابق رضا ڈار ایک بااثر سیاسی شخصیت کے نواسے ہیں۔ تمام پانچوں ملزمان اس وقت جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔

پولیس نے تحقیقات کی تفصیلات جاری کر دیں

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کامران نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دونوں غیر ملکی خواتین 29 جون کو لاہور پہنچیں اور اسی روز مبینہ طور پر اغوا کر لی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی کا سراغ لگایا، جس کی نقل و حرکت لاہور سے موٹروے کے ذریعے سرگودھا تک ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران شاہدرہ اور ڈیفنس کے مختلف مقامات پر بھی چھاپے مارے گئے۔

ڈی آئی جی کے مطابق یکم جولائی کو پہلی تاوان کال کارلوس نامی شخص کی جانب سے موصول ہوئی، جس نے بتایا کہ اس واقعے سے متعلق ہسپانوی حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اسی روز سیف سٹی ہیلپ لائن پر بھی اطلاع موصول ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ موبائل فون ریکارڈ، گاڑی کی تفصیلات اور لوکیشن ڈیٹا کی مدد سے 2 جولائی کو چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس کے مطابق بعد ازاں ملزم رضا ڈار دونوں خواتین کو لاہور ایئرپورٹ لے جا رہا تھا کہ بھٹہ چوک کے قریب گاڑی میں جھگڑا ہوا اور گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی۔ دونوں خواتین گاڑی سے نکل کر قریبی فلٹر ہاؤس میں پناہ لینے میں کامیاب ہوئیں، جہاں سے پنجاب پولیس نے انہیں بحفاظت بازیاب کرایا۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے ان خبروں کی تردید کی کہ خواتین خود وہاں پہنچیں، اور کہا کہ متاثرہ خواتین نے اپنے بیانات میں تصدیق کی ہے کہ انہیں پنجاب پولیس نے ریسکیو کیا۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں