اسلام آباد (ایم این این): قومی احتساب بیورو (نیب) نے پیر کے روز کراچی کے معروف بحریہ آئیکون ٹاور کا باضابطہ قبضہ حاصل کر لیا، بعد ازاں راولپنڈی کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ تحقیقات کے سلسلے میں اس جائیداد کی عبوری ضبطی (پروویژنل اٹیچمنٹ) کی توثیق کر دی۔
کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع بحریہ آئیکون ٹاور پاکستان کی نمایاں بلند ترین عمارتوں میں شمار ہوتا ہے اور اسے ملک کی اہم ترین کمرشل و رہائشی عمارتوں میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق ایم/ایس گلیکسی کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ سمیت دیگر افراد کے خلاف تحقیقات میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ عمارت کی تعمیر اور زمین کے حصول کے لیے مبینہ طور پر جرائم سے حاصل ہونے والی رقم استعمال کی گئی، جس کے باعث یہ جائیداد انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت کارروائی کی زد میں آئی۔
نیب نے شواہد کی بنیاد پر پہلے مرحلے میں اس جائیداد کو عبوری طور پر ضبط کیا، جبکہ مزید تحقیقات کے بعد راولپنڈی کی احتساب عدالت سے اس ضبطی کی توثیق کی درخواست کی گئی۔
عدالت نے 3 جولائی 2026 کے فیصلے میں نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے ضبطی برقرار رکھنے کا حکم دیا، جس کے بعد پیر کو نیب نے عمارت کا عملی قبضہ حاصل کر لیا۔
100 ارب روپے مالیت کی جائیداد مقامی انتظامیہ کے حوالے
نیب ذرائع کے مطابق تقریباً 100 ارب روپے مالیت کے بحریہ آئیکون ٹاور کا انتظام اور تحویل قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد مقامی انتظامیہ کے سپرد کر دی گئی ہے۔
نیب کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی منی لانڈرنگ اور جرائم سے حاصل شدہ اثاثوں کی نشاندہی، ضبطی اور ریکوری کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
بیورو نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مالی جرائم کی تحقیقات، غیر قانونی اثاثوں کا سراغ لگانے اور قانون کے مطابق ان کی ضبطی و واپسی کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
بحریہ ٹاؤن کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری
یہ پیش رفت ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف جاری مختلف قانونی کارروائیوں کا حصہ ہے۔
گزشتہ جون میں احتساب عدالت نے بحریہ ٹاؤن کراچی لینڈ کیس میں ملک ریاض، ان کے صاحبزادے اور دیگر ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جبکہ بعد ازاں ملک بھر میں بحریہ ٹاؤن کی متعدد جائیدادیں 15 روز کے لیے منجمد کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
اس سے قبل مئی میں بھی احتساب عدالت کی ہدایت پر نیب نے بحریہ ٹاؤن کی مزید چار قیمتی جائیدادیں منجمد کر دی تھیں۔
نیب کے مطابق تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ بحریہ آئیکون ٹاور کی تعمیر میں مبینہ طور پر 8 ارب روپے کی غیر قانونی رقم استعمال کی گئی، جبکہ یہ منصوبہ ایم/ایس گلیکسی کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے رکھا گیا تھا۔
اسی طرح کراچی کے طارق روڈ پر واقع بحریہ ٹاؤن ٹاور بھی نیب نے ضبط کیا، جس کے بارے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ منصوبہ محمد اویس کے نام پر رکھا گیا تھا، جنہیں تفتیشی ادارہ ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کا مبینہ بے نامی (Benami) نمائندہ قرار دیتا ہے۔
واضح رہے کہ نیب نے 2020 میں بھی بحریہ آئیکون ٹاور کی زمین کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملے پر ملک ریاض اور دیگر ملزمان کے خلاف احتساب ریفرنس دائر کیا تھا۔



