راولپنڈی (ایم این این): شارجہ سے کراچی آنے والا کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737-400 کارگو طیارہ بحیرۂ عرب کے اوپر پرواز کے دوران ریڈار اور ریڈیو رابطے سے اچانک غائب ہوگیا، جس کے بعد پاکستان کی عسکری اور سول اداروں نے بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق طیارے نے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل رات تقریباً 9:18 بجے اپنے نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی، جس پر کراچی ایریا کنٹرول سینٹر (اے سی سی) نے فوری طور پر عملے کو رہنمائی فراہم کی۔
تاہم چند ہی منٹ بعد طیارے نے اچانک اپنا رخ تبدیل کیا اور تیزی سے نیچے آنا شروع ہوگیا۔ بعد ازاں کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل (287 کلومیٹر) مغرب میں ریڈار اور ریڈیو رابطہ بیک وقت منقطع ہوگیا۔
فلائٹ ٹریکنگ سروس فلائٹ ریڈار کے مطابق ابتدائی اے ڈی ایس-بی ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ پہلے نیچے آیا، پھر کچھ بلندی حاصل کی، جس کے بعد اچانک انتہائی تیزی سے دوبارہ نیچے گرنا شروع ہوگیا۔ آخری موصول ہونے والے سگنل کے مطابق طیارہ 1,100 فٹ کی بلندی پر تھا اور تقریباً 22,400 فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے جا رہا تھا، جس کے بعد اس کا کوئی سگنل موصول نہیں ہوا۔
رجسٹریشن نمبر AP-BOI رکھنے والا یہ کارگو طیارہ پرواز TA1732 کے طور پر شارجہ سے کراچی جا رہا تھا۔ فلائٹ ڈیٹا کے مطابق طیارہ 35 ہزار فٹ کی بلندی اور تقریباً 790 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے معمول کے مطابق پرواز کر رہا تھا، لیکن اچانک یو ٹرن لینے کے بعد صرف پانچ منٹ میں تقریباً 34 ہزار فٹ نیچے آگیا۔
واقعے کے فوراً بعد پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر فعال کرتے ہوئے بحیرۂ عرب میں وسیع سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔
ذرائع کے مطابق طیارہ بلوچستان کے ساحلی علاقے اورماڑہ کے قریب لاپتا ہوا۔ پاکستان نیوی نے جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار کو سرچ آپریشن میں شامل کر دیا ہے، جبکہ پاکستان فضائیہ کا ساب سرویلنس طیارہ بھی تلاش میں حصہ لے رہا ہے۔ نیوی کا ایک اے ٹی آر طیارہ تربت سے روانہ کیا گیا ہے تاکہ فضائی نگرانی مزید مؤثر بنائی جا سکے۔
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے تجارتی جہاز بھی سرچ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، جس کے ذریعے فوجی اور سول وسائل کو یکجا کر کے لاپتا طیارے اور اس کے پانچ رکنی عملے کی تلاش جاری ہے۔
آخری اطلاعات تک نہ تو طیارے کا ملبہ ملا ہے اور نہ ہی عملے سے کوئی رابطہ قائم ہو سکا ہے۔
پی اے اے نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کی تحقیقات بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن کرے گا تاکہ حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
فلائٹ ریڈار کے مطابق 27 سال پرانا یہ بوئنگ 737-400 طیارہ 1999 میں ایروفلوٹ کے لیے بطور مسافر بردار طیارہ تیار کیا گیا تھا، بعد ازاں یہ گارودا انڈونیشیا، ٹی این ٹی ایئرویز اور اے ایس ایل ایئرلائنز کے بیڑے کا حصہ رہا۔ 2012 میں اسے کارگو طیارے میں تبدیل کیا گیا اور 2024 میں کراچی میں قائم کے ٹو ایئرویز کے بیڑے میں شامل کیا گیا۔



