امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل۔لبنان معاہدہ، حزب اللہ نے مسترد کر دیا، عالمی برادری نے خیرمقدم کیا

دمشق/اسلام آباد (ایم این این): امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے نئے فریم ورک معاہدے نے خطے میں شدید سیاسی ردعمل کو جنم دیا ہے۔ جہاں ایک جانب حزب اللہ نے اس معاہدے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا ہے، وہیں یورپی ممالک اور دیگر عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن کے قیام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے ایک سخت بیان میں معاہدے کو “ذلت آمیز، شرمناک اور خودمختاری کے سامنے ہتھیار ڈالنے” کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ان کے نزدیک کالعدم اور ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنانی حکومت نے اس معاہدے کے ذریعے اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کیا ہے، جو ایک سنگین غلطی ہے۔

نعیم قاسم نے مزید کہا کہ لبنان کے مفادات کا تحفظ صرف اُن سابقہ ایرانی۔امریکی مفاہمتی نکات پر عمل درآمد سے ممکن ہے، جن کے تحت لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ضمانت دی گئی تھی۔ انہوں نے لبنان میں جنگ بندی کے قیام میں ایران کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے اسے “عزت، وقار اور طاقت کا تحفہ” قرار دیا۔

ادھر لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے بھی معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام کو خبردار کیا کہ وہ اس معاملے پر اندرونی انتشار یا “فتنے” کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے اپنے مختصر پیغام میں کہا کہ یہ وقت قومی اتحاد برقرار رکھنے کا ہے اور عوام کو ایسے حالات سے بچنا چاہیے جو لبنان میں مزید تقسیم پیدا کریں۔

یہ فریم ورک معاہدہ کئی ماہ کی امریکی سفارتی کوششوں کے بعد طے پایا، جس کا مقصد اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی کشیدگی کا خاتمہ اور جنگ بندی کو مضبوط بنانا ہے۔ تاہم، اس معاہدے کی مذاکراتی کارروائی میں حزب اللہ براہِ راست شریک نہیں تھی، حالانکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کے ساتھ اس کی مسلح کشیدگی جاری ہے۔

معاہدے کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان میں کشیدگی برقرار رہی۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ میں حزب اللہ کے مشتبہ ارکان کو نشانہ بنایا، جنہیں اسرائیلی فوجیوں کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ یہ معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیل کی پہلی فوجی کارروائی تھی۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ فوج کو جنوبی لبنان میں قائم نام نہاد سیکیورٹی زون میں طویل عرصے تک موجود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک پورے لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے واپس نہیں ہٹے گی۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیئن نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے امریکہ کی ثالثی کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ اب اصل توجہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد، لبنان کی خودمختاری کے تحفظ اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ یورپی یونین بے گھر افراد کی امداد کے لیے مزید انسانی اور مالی معاونت فراہم کرے گی۔

جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈیفول نے بھی معاہدے کو خطے میں امن کی امید قرار دیتے ہوئے کہا کہ لبنان کو ریاستی اداروں کی عملداری مضبوط بنانا ہوگی جبکہ اسرائیل کو بھی مناسب سیکیورٹی ضمانتیں ملنی چاہئیں۔ انہوں نے تمام فریقوں، بشمول حزب اللہ، پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔

اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا کہ ان کا ملک اس معاہدے کی سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور اگر ضرورت پڑی تو اقوام متحدہ کے امن مشن (یونیفل) کے تحت مستقبل میں بین الاقوامی مشن میں بھی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی ردعمل مثبت ہے، تاہم اصل کامیابی معاہدے پر عملی عمل درآمد سے مشروط ہوگی۔

لبنان کے وزیر خارجہ یوسف راجی نے بتایا کہ اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے ٹیلی فون پر انہیں معاہدے پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے لبنان کی خودمختاری بحال ہوگی، ریاستی ادارے مضبوط ہوں گے اور خطے میں استحکام آئے گا۔ راجی نے اردن کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ سفارت کاری اور ریاستی اداروں کی بالادستی کی کامیابی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ عالمی برادری اس معاہدے کو مثبت پیش رفت قرار دے رہی ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار مکمل عمل درآمد، حزب اللہ کے مستقبل، اسرائیلی فوج کی موجودگی اور دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی انتظامات پر ہوگا۔ موجودہ حالات میں معمولی خلاف ورزی بھی خطے کو دوبارہ بڑے تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں