جدہ (ایم این این): سعودی عرب کے مشرقی شہر رأس تنورہ میں سعودی آرامکو کا ایک ہیلی کاپٹر اتوار کی صبح حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں سوار تمام 14 سعودی شہری جاں بحق ہوگئے۔
سعودی سرکاری خبر رساں ادارے (ایس پی اے) کے مطابق حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے پیش آیا۔ ہیلی کاپٹر سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کی ملکیت تھا۔ حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ ابتدائی طور پر کسی دہشت گردی یا دشمنانہ کارروائی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
آرامکو مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے کارپوریٹ فضائی بیڑوں میں سے ایک رکھتی ہے، جس میں 60 سے زائد طیارے اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں، جو ملک بھر میں 300 سے زیادہ ہیلی پیڈز پر خدمات انجام دیتے ہیں۔
یہ افسوسناک حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خلیجی ممالک حالیہ علاقائی کشیدگی، ایرانی حملوں اور آبنائے ہرمز کی عارضی بندش کے بعد تیل کی پیداوار میں اضافے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ رأس تنورہ ماضی میں ڈرون حملوں اور دیگر سیکیورٹی خطرات کا نشانہ بن چکا ہے، تاہم سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حادثے کا کسی حملے یا سیکیورٹی واقعے سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔
رأس تنورہ سعودی عرب کے اہم ترین توانائی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں مشرق وسطیٰ کی بڑی آئل ریفائنری موجود ہے، جس کی یومیہ پیداواری صلاحیت تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل ہے۔ حال ہی میں آرامکو نے تقریباً چار ماہ بعد اس ٹرمینل سے خام تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کی تھیں۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سعودی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور رپورٹ مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔



