ایران کے سپریم لیڈر کا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مبینہ جنگی جرائم پر قانونی کارروائی کا مطالبہ

تہران (ایم این این): ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مبینہ جنگی جرائم، بچوں کے قتل اور شہری آبادی پر حملوں کے حوالے سے ملکی اور بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی کارروائی تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اتوار کے روز سابق ایرانی چیف جسٹس آیت اللہ محمد بہشتی اور 1981ء کے بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والی دیگر اہم شخصیات کی برسی کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ حالیہ جنگوں کے دوران ایرانی عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا قانونی محاسبہ کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ ان کا پیغام ان کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری کیا گیا، جسے ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی نمایاں طور پر شائع کیا۔

آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جنہوں نے 8 مارچ کو سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا، نے کہا کہ ایرانی قوم کو گزشتہ دو برسوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے باعث شدید جانی، مالی اور نفسیاتی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں ایرانی کیلنڈر کے سال 1404 اور 1405 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان برسوں کے دوران ہونے والی جنگوں میں بچوں، خواتین اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جس پر عالمی سطح پر قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔

ان کا اشارہ 2025ء میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ اور رواں سال فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والے حالیہ تنازع کی جانب تھا۔

سپریم لیڈر نے کہا کہ میناب اور لامرد سمیت مختلف علاقوں میں بچوں کی ہلاکت، طبی مراکز پر حملے، شہریوں کی اموات اور عوام کو پہنچنے والے جسمانی و ذہنی نقصانات الگ الگ قانونی مقدمات ہیں، جنہیں ملکی عدالتوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی عدالتوں میں بھی بھرپور انداز میں اٹھایا جانا چاہیے۔

انہوں نے اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نومولود بچوں، بزرگ شہریوں اور دیگر بے گناہ افراد کی ہلاکتیں ہزاروں ایسے مقدمات کا حصہ ہیں جن میں انصاف فراہم کرنا ضروری ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان مبینہ جرائم کے ذمہ دار افراد کو بین الاقوامی قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں کے بعض بیانات، جن میں انہوں نے حالیہ فوجی کارروائیوں کا اعتراف یا ان پر فخر کا اظہار کیا، ایران کے مطابق ان جرائم کے اعتراف کے مترادف ہیں اور یہ بیانات متاثرین کے حقوق کے حصول میں اہم قانونی ثبوت بن سکتے ہیں۔

سپریم لیڈر نے ایرانی عدلیہ اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ دونوں حالیہ جنگوں کے دوران ہونے والے مبینہ جرائم کی تحقیقات جاری رکھیں اور انصاف کے حصول تک قانونی کارروائی کو ہر سطح پر آگے بڑھائیں۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں سے ہوا تھا، جس کے بعد ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود کر دی، جو دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

اگرچہ ایران نے بعض جوابی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی، تاہم خلیجی ممالک میں ہونے والے تمام حملوں سے لاتعلقی کا اظہار بھی کیا۔

پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق ہوا، جبکہ 18 جون کو دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر بھی دستخط کیے گئے، جس کا مقصد جنگ کا مستقل خاتمہ اور آبنائے ہرمز میں بحری تجارت کی بحالی تھا۔

تاہم گزشتہ چند روز کے دوران امریکہ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے پر نئے حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد خطے میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے، جس سے سفارتی کوششوں اور امن کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں