پاکستان سستا ایرانی تیل درآمد کرنے پر غور کر رہا ہے، وفاقی وزیر پیٹرولیم

لاہور (ایم این این): وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کے بعد ایران سے سستا خام تیل اور گیس درآمد کرنے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔

اتوار کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کی قیمتوں میں کمی اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے عوام کو مشکلات سے دوچار کیا، تاہم اب حالات بہتر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، “مشکل وقت گزر چکا ہے، اب اچھے دن آنے والے ہیں،” اور حکومت پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کر چکی ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیوں میں عارضی نرمی کے بعد پاکستان کے لیے رعایتی نرخوں پر ایرانی خام تیل درآمد کرنے کا امکان دوبارہ پیدا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پاکستان اپنی مجموعی تیل کی ضرورت کا 10 سے 20 فیصد ایران سے درآمد کرے تو خام تیل کی کم قیمت اور فریٹ اخراجات میں کمی کی بدولت سالانہ 170 سے 340 ملین ڈالر تک کی بچت ممکن ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مقامی ریفائنریاں ایرانی خام تیل کو پراسیس کرنے کی تکنیکی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم اس کے باوجود تجارتی اور آپریشنل چیلنجز موجود ہیں، خصوصاً فرنس آئل کی زیادہ پیداوار اور ملک میں اس کی محدود طلب کے باعث۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے 19 جون کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا۔

یہ کمی مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کے بعد کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہونے کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں آنے والی گراوٹ کے بعد کی گئی۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جو حالات معمول پر آنے کے بعد کم ہونا شروع ہو گیا۔

وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی منڈی کے مقابلے میں زیادہ کمی کر کے عوام کو بھرپور ریلیف فراہم کیا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں