لاہور (ایم این این): جوڈیشل مجسٹریٹ نے بدھ کے روز نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو پوڈکاسٹ میزبان ریحان طارق کا توہین مذہب اور سائبر کرائم قوانین کے تحت درج مقدمے میں چھ روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ریحان طارق کے خلاف 25 جون کو مقدمہ درج کیا گیا تھا، جب انہوں نے ایک مذہبی اسکالر کے ساتھ پوڈکاسٹ میں حساس اور متنازع فرقہ وارانہ موضوعات پر گفتگو کی، جس پر مختلف مکاتب فکر کے افراد کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
مقدمہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کی دفعہ 11 (نفرت انگیز تقریر) جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 153-A، 295-A اور 298 کے تحت درج کیا گیا، جن کا تعلق گروہوں کے درمیان نفرت پھیلانے، مذہبی جذبات مجروح کرنے اور دانستہ طور پر مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچانے سے ہے۔
سماعت کے دوران این سی سی آئی اے نے ریحان طارق کو ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کے روبرو پیش کیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو بیرون ملک سے واپسی پر لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا، جبکہ مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہے۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کو چھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کر دیا اور ہدایت کی کہ ریمانڈ مکمل ہونے پر دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔
یاد رہے کہ رواں سال مئی میں این سی سی آئی اے نے پنجاب کے مختلف شہروں سے 11 سوشل میڈیا کارکنوں کو مبینہ طور پر ریاست مخالف پروپیگنڈا اور عوام کو اشتعال دلانے کے الزامات میں گرفتار کیا تھا۔



