واشنگٹن/تہران (ایم این این): امریکہ نے ایران پر ایک بار پھر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے عبوری معاہدے کو “ختم” قرار دینے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ، تجارتی جہازوں اور بین الاقوامی پانیوں میں سفر کرنے والے شہری عملے پر حالیہ حملوں کا ذمہ دار ایران کو سمجھتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی ایران کے مختلف علاقوں بوشہر، بندر عباس، چاہ بہار اور کنارک میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ متعدد مقامات پر فضائی دفاعی نظام بھی فعال کر دیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق چاہ بہار میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی، تاہم حکام نے حملوں کے اہداف یا نقصانات کی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں۔
ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی سرزمین پر مزید حملے کیے گئے تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر تمام بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا جائے گا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ایک سکیورٹی ذریعے نے کہا کہ ایران کسی بھی نئے حملے کے جواب میں سخت ردعمل دے گا اور ہر ایرانی ہدف کے بدلے کم از کم دو دشمن اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے واقعات دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور پورے خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، مزید کشیدگی سے گریز کریں، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں، شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنائیں اور بین الاقوامی بحری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت کا احترام کریں۔



