راولپنڈی (ایم این این): پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ چار روز کے دوران دہشت گردی کے تین بڑے واقعات میں 38 سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ سکیورٹی فورسز نے 40 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پریس بریفنگ کا مقصد حالیہ دہشت گرد حملوں کی تفصیلات اور ان کے پس منظر سے قوم کو آگاہ کرنا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پہلا واقعہ 4 اور 5 جولائی کی درمیانی شب حنا اُرک کے علاقے میں پیش آیا جہاں حکومت کے مطابق “فتنہ الخوارج” سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے مقامی آبادی پر حملہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ مقامی شہریوں نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور انہیں فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس حملے میں چار شہری شہید جبکہ چھ افراد زخمی ہوئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ دوسرا اور سب سے بڑا حملہ ضلع زیارت میں منگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن نمبر 3 کی حفاظت پر مامور پولیس چوکی پر کیا گیا، جہاں دہشت گردوں نے مختلف سمتوں سے حملہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے انتہائی جرات کے ساتھ مقابلہ کیا اور ابتدائی جھڑپ میں 15 دہشت گرد مارے گئے جبکہ دو ایس ایچ اوز سمیت نو پولیس اہلکار شہید ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور کی اضافی نفری فوری طور پر روانہ کی گئی، تاہم ان کے پہنچنے سے قبل دہشت گرد بعض پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر پہاڑی علاقوں میں لے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یرغمال اہلکاروں کی جانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے فضائی کارروائی سے گریز کیا گیا تاکہ کسی قسم کا جانی نقصان نہ ہو۔
انہوں نے بتایا کہ 6 جولائی سے زیارت کے پہاڑی علاقوں میں جاری آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا گھیرا مزید تنگ کیا، تاہم دہشت گردوں نے فرار ہونے سے قبل مزید 18 پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا۔
ان کے مطابق آپریشن تاحال جاری ہے اور مزید 11 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زیارت کے واقعات میں مجموعی طور پر 27 پولیس اہلکار شہید جبکہ 26 دہشت گرد مارے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ تیسرا دہشت گرد حملہ آج بیلہ اور وندر کے علاقے میں ایک فوجی قافلے پر کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے کیا۔
انہوں نے کہا کہ حملے میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر اور دس جوانوں سمیت 11 فوجی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ جوابی کارروائی میں 14 دہشت گرد مارے گئے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے، اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔



