ای سی سی کی دفاعی منصوبوں کے لیے 3.29 ارب روپے، بجلی کے شعبے کے لیے 52 ارب اور شہدا کے اہل خانہ کے لیے 4.2 ارب روپے کی منظوری

اسلام آباد (ایم این این): اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بدھ کے روز مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے کے اضافی فنڈز اور مالیاتی اقدامات کی منظوری دے دی، جن میں دفاعی منصوبوں کے لیے 3.289 ارب روپے، بجلی کے شعبے کے لیے 52 ارب روپے اور سول آرمڈ فورسز کے شہدا کے اہل خانہ کے لیے 4.2 ارب روپے شامل ہیں۔

ای سی سی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزارت خزانہ میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں قومی سلامتی اور دفاع سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ کمیٹی نے یومِ آزادی اور 2025 کے ’’معرکۂ حق‘‘ کی تقریبات کے اخراجات کے لیے 1.289 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ (ٹی ایس جی) کی منظوری دی۔

اسی طرح اسلام آباد میں معرکۂ حق یادگار کی تعمیر کے لیے مزید 2 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ یہ منصوبہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔ اس طرح دفاعی نوعیت کے منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3.289 ارب روپے مختص کیے گئے۔

قومی سلامتی سے متعلق ایک اور فیصلے میں فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (شمال) کی آپریشنل تیاری اور سکیورٹی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے 25 کروڑ روپے فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔

ای سی سی نے سول آرمڈ فورسز کے شہدا کے اہل خانہ کو واجبات کی ادائیگی کے لیے 4.2 ارب روپے کی بھی منظوری دی۔ حکومت نے ہدایت کی کہ یہ رقم موجودہ مالی سال میں دستیاب بچت سے فراہم کی جائے جبکہ باقی ضروریات اگلے مالی سال میں پوری کی جائیں گی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ملازمین کے اخراجات پورے کرنے کے لیے 19 کروڑ 32 لاکھ روپے کی منظوری بھی دی گئی۔

اجلاس کے اہم ترین فیصلوں میں بجلی کے شعبے کے لیے 52 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری شامل ہے، جو سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے-جی) کو ڈسکوز میں حکومتی ایکویٹی کے طور پر فراہم کی جائے گی۔

اس کے علاوہ کے-الیکٹرک کے لیے مختص 97.649 ارب روپے کو انٹر ڈسکو ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کی مد میں منتقل کرنے اور ٹیسکو کے 44.198 ارب روپے کے بقایا سبسڈی کلیمز کی ایڈجسٹمنٹ کی بھی منظوری دی گئی۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے لیے پاکستان آسان خدمت مرکز اسلام آباد کے دوسرے مرحلے کی تکمیل کے لیے 4.5 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی، جبکہ 91 کروڑ 12 لاکھ روپے کی بچت کو اسمارٹ اسلام آباد انیشی ایٹو کے لیے مختص کر دیا گیا۔

بلوچستان میں خدمات انجام دینے والے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس آف پاکستان کے افسران کے لیے مراعاتی پیکج پر عملدرآمد کے لیے 31 کروڑ 23 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی۔

کمیٹی نے یکم جولائی 2026 سے ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو اسکیم کے خاتمے کی بھی منظوری دی۔

ترقیاتی منصوبوں کے تحت ضلع شانگلہ کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے ایک منصوبے میں 79 کروڑ 37 لاکھ روپے منتقل کرنے کی منظوری دی گئی تاکہ ترقیاتی کام بروقت مکمل کیے جا سکیں۔

وزارت بحری امور کو ملک بھر کی ماہی گیر کشتیوں میں ویسل مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے حصے کے طور پر 60 کروڑ روپے فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔

پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی جاری رکھنے کے لیے مالی سال 2025-26 کے پہلے سے منظور شدہ بجٹ سے فنڈز جاری کرنے کی اجازت دی گئی۔

پاکستان ریلوے کے لیے گرانٹ اِن ایڈ میں مزید 7 ارب روپے اضافے کی منظوری بھی دی گئی۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) کے آپریشنز اور انتظامی امور جاری رکھنے کے لیے 2 کروڑ 24 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔

وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کے ملازمین کے اخراجات پورے کرنے کے لیے 82 لاکھ 16 ہزار روپے کی منظوری بھی دی گئی۔

علاوہ ازیں، ای سی سی نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کی جانب سے میزان بینک سے حاصل کردہ 50 ارب روپے کی فنانسنگ سہولت کے لیے حکومتی ضمانتوں کی مدت میں 30 جون 2027 تک توسیع کی منظوری دی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں