اسلام آباد (ایم این این): ایران کے صدر مسعود پزشکیان پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے۔ دفتر خارجہ نے پیر کو جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ دورہ وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔
صدر پزشکیان کے ہمراہ وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی پاکستان آئے گا۔
دورے کے دوران ایرانی صدر صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ صدر مسعود پزشکیان اپنے صدارتی دور میں دوسری مرتبہ پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔
پاکستان اور ایران کے درمیان مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، علاقائی روابط اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے نئے مواقع پر غور کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ نے اس دورے کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد جاری سفارتی رابطوں کا جائزہ لینے اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کا اہم موقع قرار دیا ہے۔
بیان کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے مشترکہ وژن کو اجاگر کرتا ہے۔
صدر پزشکیان کا یہ دورہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم براہِ راست مذاکرات، جنہیں “لیک لوسرن سمٹ” کا نام دیا گیا، کے بعد ہو رہا ہے۔ یہ مذاکرات 18 جون کو طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت شروع کیے گئے تھے۔
14 نکاتی فریم ورک کے مطابق واشنگٹن اور تہران نے جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اہم تنازعاتی امور پر 60 روز کے اندر مذاکرات مکمل کرنے کے روڈ میپ پر اتفاق کیا تھا۔
سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا، جبکہ پاکستان کی نمائندگی وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی۔
لیک لوسرن سمٹ کے نتیجے میں تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رکھنے کا طریقہ کار طے کیا گیا، جبکہ لبنان میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو محفوظ رکھنے کے لیے رابطہ نظام بھی قائم کیا گیا۔
ثالث ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مذاکرات میں “حوصلہ افزا پیش رفت” ہوئی ہے اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی غلط فہمی یا ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے براہِ راست رابطے کا ایک مؤثر نظام قائم کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں، فریقین اور لبنانی حکام کے درمیان ایک “ڈی کنفلیکشن سیل” قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے تاکہ خطے میں دوبارہ کشیدگی اور مسلح تصادم کو روکا جا سکے۔



