پاکستانی نوجوان ملازمتوں کے لئے بیرون ممالک کو ترجیح دینے لگے،برین ڈرین میں تیزی آگئی

اسلام آباد ایم این این

پاکستان کو بڑھتے ہوئے برین ڈرین اور نوجوانوں کی بیرونِ ملک روزگار کی جانب بڑھتی ہوئی رغبت جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 2026 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران دو لاکھ اٹھہتر ہزار پانچ سو سے زائد پاکستانی روزگار کی غرض سے بیرونِ ملک جانے کے لیے رجسٹرڈ ہوئے یا روانہ ہوئے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق جنوری سے مئی 2026 کے دوران دو لاکھ اٹھہتر ہزار سے زائد پاکستانیوں نے بیرونِ ملک ملازمتوں کے مواقع حاصل کیے۔ ان میں سب سے بڑی تعداد مزدوروں کی رہی، جن کے ایک لاکھ اکہتر ہزار سے زائد افراد رجسٹرڈ ہوئے، جبکہ باون ہزار سے زائد ڈرائیور بھی بیرونِ ملک روزگار کے لیے گئے۔ یہ دونوں شعبے مجموعی تعداد کا تقریباً اسی فیصد بنتے ہیں۔
خلیجی ممالک، بالخصوص تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں پاکستانی افرادی قوت کی طلب بدستور برقرار ہے۔ سعودی عرب پاکستانی کارکنوں کے لیے سب سے بڑی منزل رہا، جبکہ متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر رہا، جہاں اس عرصے کے دوران تقریباً پچاس ہزار پاکستانیوں نے ملازمتیں حاصل کیں۔ پاکستانی باورچیوں کی مانگ میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور ان کی رجسٹریشن کی تعداد گزشتہ برس کے مجموعی اعداد و شمار کے قریب پہنچ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف غیر ہنر مند یا نیم ہنر مند افراد ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد بھی بڑی تعداد میں ملک چھوڑ رہے ہیں۔ رواں سال کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران دو ہزار تین سو اکتالیس انجینئرز، ایک ہزار دو سو چوراسی ڈاکٹرز اور چار سو ستاسی نرسز نے بھی بیرونِ ملک ملازمت اختیار کی۔


حکومت نے سال 2026 کے دوران آٹھ لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو بیرونِ ملک روزگار کی سہولت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اگرچہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے اہم ذریعہ ہیں اور لاکھوں خاندانوں کی کفالت کا سبب بنتی ہیں، تاہم ماہرین بڑھتے ہوئے برین ڈرین پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں بے روزگاری، معاشی غیر یقینی صورتحال، بیرونِ ملک بہتر تنخواہیں اور اعلیٰ معیارِ زندگی کی خواہش نوجوانوں کے انخلا کی بڑی وجوہات ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس رجحان کے طویل المدتی اثرات صحت، انجینئرنگ اور دیگر اہم شعبوں میں افرادی قوت کی کمی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں، جس سے قومی ترقی اور جدت کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان اب بھی اپنی نوجوان اور بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے چیلنج سے نبرد آزما ہے اور بیرونِ ملک ملازمتیں اس دباؤ کو کم کرنے کا ایک اہم ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں