اسلام آباد (ایم این این): پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اتفاقِ رائے منگل کو وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں اور مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران سامنے آیا۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ یہ دورہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت کا پہلا اہم دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی، جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن، تجارت، توانائی، سرحدی تعاون، رابطہ کاری اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر پزشکیان کے ساتھ انتہائی خوشگوار اور برادرانہ ماحول میں نہایت مفید گفتگو ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات ایسے محسوس ہوئی جیسے ایک خاندان کے افراد دوبارہ اکٹھے ہوئے ہوں اور دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران نے ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور حالیہ واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان دوستی، اعتماد اور شراکت داری کی مضبوطی کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔
انہوں نے صدر پزشکیان کو ایک مدبر، دوراندیش اور بردبار رہنما قرار دیتے ہوئے ان کی طبی اور عوامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پورے خطے کے لیے امید کی نئی کرن ہے اور اس کے نتیجے میں ایک ایسی جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی۔
انہوں نے ایران کی قیادت کی دانشمندانہ پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک مخلص اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر امن عمل میں اپنا کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ہفتے تہران کا دورہ کریں گے جہاں وہ مرحوم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے اور ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کریں گے۔
انہوں نے ایران میں جنگ کے دوران جاں بحق ہونے والے ہزاروں افراد پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام ایرانی عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران صرف ہمسایہ ممالک نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ، مذہب، تہذیب اور ثقافت کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے امن عمل میں تعاون پر قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر سمیت دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوششوں کو بھی سراہا۔
اپنے خطاب میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے علامہ محمد اقبال کے اشعار پڑھتے ہوئے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں پر مبنی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے لیے صرف ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ ایک برادر اور قابلِ اعتماد دوست ہے جس کے ساتھ تعلقات صدیوں پر محیط ہیں۔
صدر پزشکیان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو ذمہ دارانہ، دوراندیش اور قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے پاکستان کی ثالثی کو گہرے اعتماد کے باعث قبول کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر انتہائی مثبت اور تعمیری گفتگو ہوئی۔
ایرانی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک موجودہ سازگار ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کرنا چاہتے ہیں اور تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام صرف باہمی احترام، مکالمے اور علاقائی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہی مستقبل میں کسی معاہدے کا حصہ بنے گا۔
دریں اثنا صدر آصف علی زرداری نے ایوانِ صدر میں ایرانی صدر سے ملاقات کے دوران ایران کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی امن اور رابطہ کاری کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔
صدر زرداری نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تکنیکی مذاکرات مستقل امن کی راہ ہموار کریں گے۔
ایرانی صدر نے پاکستان کی حمایت اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔
دورے کے دوران صدر پزشکیان نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کی، جس میں علاقائی امن، سلامتی اور جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔



