پاکستان نے امریکی تحویل میں لیے گئے ٹینکر کے 22 ایرانی عملے کی وطن واپسی میں سہولت فراہم کر دی

اسلام آباد (ایم این این): نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تحویل میں لیے گئے آئل ٹینکر ایم ٹی ڈیوینا کے 22 ایرانی عملے کے ارکان پاکستان پہنچ گئے ہیں اور ان کی محفوظ وطن واپسی کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایرانی سفارتی مشنز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ عملے کے تمام ارکان کو جلد اور محفوظ طریقے سے ایران واپس بھیجا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس پورے عمل کے دوران پاکستان مسلسل امریکی اور ایرانی حکام سے رابطے میں رہا تاکہ عملے کی محفوظ منتقلی اور وطن واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسحاق ڈار کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران یہ ایرانی عملے کا چوتھا گروپ ہے جس کی وطن واپسی میں پاکستان نے سہولت فراہم کی ہے۔ آج کے 22 افراد سمیت اب تک 70 سے زائد ایرانی شہری پاکستانی سرزمین کے ذریعے اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔

انہوں نے ایرانی حکومت کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کے اظہار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان مشکل حالات میں انسانی بنیادوں پر تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

یاد رہے کہ ایم ٹی ڈیوینا کو 13 اپریل کو امریکہ نے اس وقت تحویل میں لیا تھا جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں پر سخت نگرانی اور ناکہ بندی نافذ کر رکھی تھی۔

اس سے قبل 19 اپریل کو ایران کی سرکاری شپنگ کمپنی آئی آر آئی ایس ایل سے وابستہ کارگو جہاز ایم وی توسکا کو بھی ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے قریب خلیج عمان میں امریکی فورسز نے قبضے میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں 29 اپریل کو عملے کے چھ افراد کو رہا کیا گیا، جبکہ باقی 22 افراد کو 4 مئی کو پاکستان منتقل کیا گیا جہاں سے انہیں زمینی راستے کے ذریعے ایران بھیج دیا گیا۔ جہاز کو بھی مرمت کے لیے پاکستان لایا گیا تھا اور بعد میں اس کے مالکان کے حوالے کر دیا گیا۔

اس سے قبل 15 مئی کو اسحاق ڈار نے اعلان کیا تھا کہ امریکی تحویل میں لیے گئے مختلف بحری جہازوں پر سوار 11 پاکستانی اور 20 ایرانی شہریوں کو بھی کامیابی کے ساتھ وطن واپس لایا گیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ تمام افراد خیریت سے ہیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، خصوصاً مشکل حالات سے دوچار شہریوں کی حفاظت اور وطن واپسی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں