اسلام آباد (ایم این این): قومی اسمبلی میں بدھ کے روز آزاد جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) سے متعلق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے متنازع بیان پر حکومت اور اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب خواجہ آصف نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ راولاکوٹ “کشمیر نہیں” اور وہ وہاں کے لوگوں کو کشمیری نہیں سمجھتے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی جانب سے راولاکوٹ میں احتجاج جاری ہے۔
بعد ازاں خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریت کی بنیاد پیدائشی سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے جاری قربانیوں اور جدوجہد پر ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے وزیر دفاع کے بیان پر سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ اتنے سینئر عہدیدار کو اس نوعیت کا عمومی اور حساس بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس بیان سے بہت سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور آزاد کشمیر جیسے حساس خطے کے بارے میں گفتگو کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیری عوام کے مسائل کے حل کے لیے کشیدگی کم کی جانی چاہیے نہ کہ اسے مزید بڑھایا جائے۔
انہوں نے خواجہ آصف کے بیان کو مسئلہ کشمیر کے مؤقف کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے راولاکوٹ کے عوام سے ان کی جانب سے معذرت بھی کی۔
جواب میں خواجہ آصف نے اپنی وضاحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری ہونے کا تعین صرف پیدائشی دستاویزات سے نہیں کیا جا سکتا اور ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی ایوان سے خطاب کیا اور کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے اتحادیوں اور اپوزیشن کے ساتھ مثبت انداز میں رابطے کر رہے ہیں، تاہم بعض وزرا ان کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
بلاول نے وزیراعظم کی سیاسی بصیرت، محنت اور مفاہمتی انداز کو سراہتے ہوئے کہا کہ بعض وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی وزیر مسلسل یہ مؤقف اختیار کرے کہ راولاکوٹ کے لوگ کشمیری نہیں ہیں تو وہ اب تک وفاقی کابینہ کا حصہ کیوں ہے اور اس نے معافی کیوں نہیں مانگی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اس طرح کے بیانات آزاد کشمیر میں پہلے سے موجود کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بھڑکانے کا سبب بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت، سیاسی جماعتوں اور تمام پاکستانیوں کو اس معاملے کا سیاسی حل تلاش کرنا چاہیے۔
انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کو انہیں مثبت کردار ادا کرنے کا موقع دینا چاہیے تاکہ وفاقی حکومت، آزاد کشمیر حکومت اور احتجاج کرنے والے گروپوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
بلاول نے مزید کہا کہ وزیراعظم کو اپنی ٹیم پر مکمل اختیار ہونا چاہیے۔ اگر ہر وزیر الگ سمت میں بیان دے گا تو اس سے حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاج کا مقصد جولائی میں ہونے والے انتخابات کو متاثر کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 12 مہاجر نشستوں کے مستقبل کا فیصلہ صرف آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کر سکتی ہے اور اس مسئلے کا حل احتجاج یا تشدد نہیں بلکہ آئینی اور جمہوری عمل میں ہے۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق اس وقت راولاکوٹ کے علاوہ آزاد کشمیر کے دیگر علاقوں میں کوئی بڑا احتجاج نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ جے اے اے سی کے آٹھ مطالبات ہیں جن میں ایک مطالبہ کاغذات نامزدگی میں شامل اس شق کا خاتمہ بھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آزادی کی کامیاب جدوجہد کے بعد کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔
انہوں نے احتجاجی قیادت کے بعض بیانات اور سوشل میڈیا سرگرمیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات تحریک آزادی کشمیر کے مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے۔
علاحدہ طور پر خواجہ آصف نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے سیاسی ماضی کا جائزہ لے اور حکومت کے ساتھ ایک نئے میثاق جمہوریت پر اتفاق کرے۔
انہوں نے نوّے کی دہائی کی سیاسی کشمکش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھ کر جمہوری تعاون کا راستہ اختیار کیا تھا۔ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میثاق جمہوریت نے ملکی سیاست میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھی۔
وزیر دفاع نے سابق تحریک انصاف حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس نے پارلیمانی روایات اور سیاسی ثقافت کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق ملک میں مزید مؤثر آئینی اصلاحات کی ضرورت اب بھی موجود ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مالی سال 2024-25 کے لیے 593 ارب 64 کروڑ روپے کے ضمنی اخراجات اور سبکدوش ہونے والے مالی سال کے لیے 482 ارب روپے کے اضافی اخراجات کی بھی منظوری دے دی گئی۔



