شیر شاہ سوری سے مریم نواز تک: پنجاب میں پانچ سو سال پرانا نظام تبدیل

راولپنڈی:ایم این این – پنجاب میں زمینوں اور جائیدادوں کے ریکارڈ کے حوالے سے ایک تاریخی تبدیلی متعارف کرادی گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے یکم جولائی 2026 سے اراضی کے روایتی نظام کو ختم کرتے ہوئے جدید ڈیجیٹل گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 30 جون 2026 کے بعد فردِ بیع کا اجرا بند کردیا جائے گا، جبکہ یکم جولائی 2026 سے رجسٹری اور فرد کی جگہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق پنجاب میں رائج صدیوں پرانا کھیوٹ سسٹم اب جدید پارسل بیسڈ سسٹم میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو زمین کے درست محل وقوع، حدود اور تقسیم کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے۔

اس تبدیلی کو بعض حلقے شیر شاہ سوری کے دور سے چلے آنے والے اراضی نظام میں سب سے بڑی اصلاح قرار دے رہے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق
ابتدائی مرحلے میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کی فیس 900 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس سرٹیفکیٹ میں زمین یا جائیداد کا مکمل پتہ، ضلع، تحصیل، موضع، رقبہ، زمین کی نوعیت، ملکیت کی تفصیلات، سیٹلائٹ نقشہ اور منفرد کیو آر کوڈ شامل ہوگا۔

حکومت کے مطابق نئے نظام کے ذریعے جائیداد کی ملکیت کی فوری تصدیق ممکن ہوگی، جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اپنی جائیدادوں کا مکمل ریکارڈ آن لائن دیکھ سکیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے نفاذ سے جعلی رجسٹریوں، قبضہ مافیا، زمینوں سے متعلق تنازعات، کاغذات کے ضائع ہونے اور پٹواری کلچر جیسے دیرینہ مسائل کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں