ڈیجیٹل حصار، اینٹی سموگ گنز، کیو آر کوڈ، پنجاب میں محرم پر نیا ماڈل نافذ

لاہور :ایم این این

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر محرم الحرام کے دوران عزادارانِ اہل بیتؑ کی سکیورٹی، سہولت اور خدمت کے لیے پنجاب بھر میں گزشتہ آٹھ روز سے فول پروف انتظامات جاری ہیں۔ پنجاب کی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو ادارے، سول ڈیفنس، محکمہ صحت اور دیگر محکمے مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں۔

رواں سال پنجاب میں محرم الحرام کے انتظامات کے لیے پہلی مرتبہ جدید ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز کو مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب نے “کیئر اینڈ پروٹیکشن” پر مبنی نیا انتظامی و سکیورٹی ماڈل متعارف کروایا ہے جس کے تحت عزاداران کو تحفظ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی حکومت کی جانب سے شدید گرمی اور حبس کے پیش نظر جلوسوں کے راستوں پر انوائرمنٹل پروٹیکشن اتھارٹی کی اینٹی سموگ گنز اور خصوصی سپرنکلرز کے ذریعے پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔ ٹھنڈے اور میٹھے پانی کی سبیلوں، خوشبو کے چھڑکاؤ اور صفائی ستھرائی کے خصوصی انتظامات بھی یقینی بنائے گئے ہیں۔

پنجاب بھر کی 4 ہزار 836 امام بارگاہوں کو پہلی مرتبہ QR کوڈ سسٹم سے منسلک کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے منتظمین فوری طور پر حکومتی معاونت، رابطے اور سروسز تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے منتظمین سے اپیل کی ہے کہ وہ QR کوڈز ڈاؤن لوڈ کرکے اس سہولت سے استفادہ کریں۔

محرم الحرام کے دوران صوبے میں تھری ٹیئر سکیورٹی پلان نافذ ہے جبکہ ایک لاکھ 25 ہزار 641 سے زائد پولیس اہلکار سکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پاک فوج کی 61 اور رینجرز کی 76 کمپنیاں طلب کی گئی ہیں جبکہ 30 ہزار 445 تربیت یافتہ رضاکار بھی معاونت کر رہے ہیں۔

پنجاب حکومت کی جانب سے نیٹ ورک بندش کے دوران رابطے برقرار رکھنے کے لیے خصوصی LTE نیٹ ورک بھی لانچ کیا گیا ہے۔ صوبائی انٹیلی جنس سینٹر، کنٹرول رومز اور ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ یونٹس 24 گھنٹے فعال ہیں جبکہ 5 ہزار 623 سی سی ٹی وی کیمرے، 1040 باڈی کیمز، جدید ڈرونز اور ایک ہزار سے زائد 4G ایونٹ کیمرے حساس مقامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

نفرت انگیز مواد، فرقہ واریت اور اشتعال انگیزی کے تدارک کے لیے سائبر پیٹرولنگ یونٹ ہائی الرٹ ہے۔ اب تک 6 ہزار سے زائد قابل اعتراض سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور مواد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔

حکام کے مطابق صوبے بھر میں مجموعی طور پر 47 ہزار 280 مجالس اور جلوس منعقد ہوں گے، جن میں 37 ہزار 868 مجالس اور 9 ہزار 412 جلوس شامل ہیں۔ صوبائی کابینہ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے فیلڈ میں موجود رہ کر انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ محرم الحرام پر امن، محفوظ اور منظم ماحول کو یقینی بنایا جا سکے

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں