سرگودھا بچی قتل کیس: ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مبینہ جنسی زیادتی کا شبہ

سرگودھا (ایم این این): سرگودھا میں سات سالہ بچی کے قتل کیس میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں بچی کے ساتھ قتل سے قبل مبینہ جنسی زیادتی کے امکان کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے کے لیے تفصیلی فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

بچی کی لاش پیر کے روز ایک دکان سے برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے ایک نے دورانِ تفتیش مبینہ طور پر جرم میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرگودھا سہیب اشرف نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں جنسی زیادتی کے امکانات ظاہر ہوئے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی رائے تفصیلی میڈیکل اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد دی جائے گی۔

پولیس کے مطابق ابتدائی طبی معائنے میں بچی کے سر اور گردن پر گہرے زخموں کی نشاندہی کی گئی ہے، جو شدید تشدد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موت کی ممکنہ وجہ تیز دھار آلے سے لگنے والے زخموں کے نتیجے میں زیادہ خون بہنا ہے۔

دریں اثنا، بدھ کے روز پولیس نے بتایا کہ مقدمے کا مرکزی ملزم مبینہ طور پر پولیس حراست سے فرار ہونے کے بعد کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی کارروائی کے دوران ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا، تاہم اس کے فرار ہونے کے حالات اور دیگر تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔

مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں قتل، کمسن بچی سے زیادتی، جرم کی کوشش اور معاونت سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق بچی قریبی کریانہ اسٹور سے سامان خریدنے گئی تھی لیکن واپس نہ آئی۔ اہل خانہ نے تلاش کے دوران دکان کا رخ کیا، جہاں ان کے بقول دکاندار نے بچی کے بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔ بعد ازاں عمارت کی تلاشی کے دوران ایک مشتبہ شخص کو دیکھا گیا جو موقع سے فرار ہو گیا، جبکہ بچی شدید زخمی حالت میں ملی۔

مدعی نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزم نے بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کی کوشش کے بعد اسے قتل کیا، جبکہ دکان کے مالک اور دو دیگر افراد کے ملوث ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعے سے دو روز قبل مدعی اور دکاندار کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جس کے دوران مبینہ طور پر دھمکیاں دی گئی تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک شواہد اور دیگر شواہد کی روشنی میں مزید حقائق سامنے آئیں گے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں