مظفرآباد (ایم این این): آزاد جموں و کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے شہریوں، بالخصوص بیرون ملک مقیم کشمیریوں اور پاکستانیوں کو جعلی خبروں، گمراہ کن معلومات اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد سے محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں صرف سرکاری اور مصدقہ ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔
مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں داخلے کے تمام راستے ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھلے ہیں اور ضروری اشیائے خور و نوش لے جانے والی گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔
انہوں نے برطانیہ اور یورپ میں مقیم کشمیری اور پاکستانی برادری سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی خبر یا اطلاع پر یقین کرنے سے قبل اسے سرکاری میڈیا، حکومتی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا دیگر مستند ذرائع سے ضرور تصدیق کریں۔
آئی جی پولیس کے مطابق کوہالہ، آزاد پتن اور برارکوٹ سمیت تمام اہم داخلی راستوں پر معمول کے حفاظتی چیک کے علاوہ کسی قسم کی رکاوٹ موجود نہیں اور ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے بعض کارکنوں نے مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کیں اور سامان لے جانے والی گاڑیوں کی نقل و حرکت میں خلل ڈالنے کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے راستوں کو کھلا رکھنے اور شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔
لیاقت علی ملک نے بعض میڈیا رپورٹس پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چند خبروں میں غیر مصدقہ دعوؤں کو شامل کیا گیا اور حکومتی مؤقف حاصل کیے بغیر انہیں شائع کر دیا گیا، جس سے حقائق کی درست عکاسی نہیں ہو سکی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 23 جون کو چیف سیکرٹری خوشحال خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ حکومت یا پولیس کی جانب سے آزاد کشمیر آنے والی کسی بھی قسم کی ٹریفک، بشمول ضروری اشیا لے جانے والی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ، کو نہیں روکا جا رہا۔
آئی جی پولیس نے میڈیا اداروں سے بھی درخواست کی کہ آزاد کشمیر پولیس سے متعلق کسی بھی خبر یا ویڈیو کو نشر کرنے سے قبل متعلقہ حکام سے تصدیق ضرور کی جائے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے غیر مصدقہ مواد سے گریز کیا جائے۔
یہ پریس کانفرنس کالعدم جے اے اے سی کی جانب سے جاری ہڑتال کے دوران منعقد ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن کے بعض علاقوں میں جزوی شٹر ڈاؤن دیکھا گیا، جبکہ میرپور ڈویژن میں معمولات زندگی زیادہ تر معمول کے مطابق رہے۔
مظفرآباد میں محدود مقدار میں ایندھن فروخت کرنے والے واحد پٹرول پمپ پر شہریوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں، جہاں لوگ موٹر سائیکلوں، جنریٹروں اور دیگر ضروری استعمال کے لیے پٹرول حاصل کرنے کے منتظر تھے۔
دوسری جانب حکومت نے کالعدم تنظیم سے منسلک احتجاجی سرگرمیوں میں مبینہ شرکت یا معاونت کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی مزید تیز کر دی ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشنز کے مطابق محکمہ تعلیم، محکمہ برقیات اور طبی اداروں سے تعلق رکھنے والے متعدد ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والی سرگرمیوں کی حمایت کرنے والے ملازمین کے خلاف مزید محکمانہ کارروائی، بشمول ملازمت سے برطرفی، بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
دریں اثنا، کالعدم جے اے اے سی نے رات گئے اعلان کیا کہ اس کی احتجاجی مہم پرامن دھرنوں کی صورت میں جاری رہے گی اور طویل مارچ سے متعلق گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا۔
واضح رہے کہ جے اے اے سی نے 27 جولائی کو ہونے والے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر احتجاجی تحریک شروع کی تھی۔
5 جون کو آزاد کشمیر حکومت نے جے اے اے سی کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد تنظیم کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا اور متعدد افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا۔



