یوم عاشور پر ملک بھر میں سخت سکیورٹی، جلوس اور مجالس پرامن طور پر اختتام پذیر

اسلام آباد (ایم این این): حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کی یاد میں یوم عاشور ملک بھر میں مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر ہزاروں جلوس، مجالس اور ماتمی اجتماعات منعقد ہوئے، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ملک بھر میں انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کیے۔

کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا اور اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیہ پر اختتام پذیر ہوا۔ حیدرآباد میں مرکزی جلوس قدم گاہ مولا علی سے برآمد ہو کر کربلا دادن شاہ پہنچا۔

اسلام آباد میں کوئی مرکزی جلوس نہیں نکالا گیا، تاہم راولپنڈی کا مرکزی جلوس امام بارگاہ عاشق حسین، ٹیلی محلہ سے برآمد ہو کر امام بارگاہ قدیمی پر اختتام پذیر ہوا۔ لاہور میں مرکزی جلوس نثار حویلی سے برآمد ہو کر کربلا گامے شاہ پہنچا، جبکہ ملتان اور جنوبی پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی تمام جلوس اور مجالس پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئیں۔

پشاور میں بارہ ماتمی جلوس اپنے روایتی راستوں سے گزرنے کے بعد اختتام پذیر ہوئے اور کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

جلوسوں کے دوران شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔

کراچی میں مجموعی طور پر 20 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے، جن میں ساڑھے چھ ہزار اہلکار صرف مرکزی جلوس کی سکیورٹی پر مامور رہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ماتمی جلوس میں شرکت کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے بھر میں سولہ سو سے زائد جلوسوں کی حفاظت کے لیے تقریباً 60 ہزار پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے بتایا کہ حساس علاقوں میں موبائل فون سروس معطل رکھی گئی جبکہ 53 ہزار سے زائد پولیس اہلکار، چھ سے سات ہزار رینجرز اہلکار اور فوجی دستے ہائی الرٹ رہے۔

راولپنڈی میں پانچ کمپنیوں پر مشتمل پاک فوج، سات کمپنیوں پر مشتمل رینجرز اور آٹھ ہزار سے زائد پولیس اہلکار سکیورٹی پر مامور رہے۔ مرکزی جلوس کے لیے ساڑھے پانچ ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ سیف سٹی کیمروں، کنٹرول رومز، چھتوں پر سنائپرز، داخلی راستوں پر ناکہ بندی اور سخت تلاشی کے ذریعے نگرانی جاری رہی۔ سکیورٹی خدشات کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان میٹرو بس سروس بھی معطل رہی۔

پنجاب بھر میں تین سطحی سکیورٹی پلان کے تحت ایک لاکھ پچیس ہزار سے زائد پولیس اہلکار، پاک فوج کی 61 اور رینجرز کی 76 کمپنیاں تعینات کی گئیں جبکہ 30 ہزار سے زائد تربیت یافتہ رضاکار بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کرتے رہے۔

صوبے بھر میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی، باڈی کیمرے، جیو ٹیگڈ ویڈیو مانیٹرنگ، 5 ہزار 600 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے اور ایک ہزار سے زائد فور جی ایونٹ کیمرے استعمال کیے گئے۔ پنجاب کے 24 اضلاع میں حساس مقامات پر رات دس بجے تک موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل رہی۔

لاہور میں 15 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ جلوسوں کے راستوں پر اضافی کیمرے اور سنائپرز بھی تعینات رہے۔

خیبرپختونخوا میں مجموعی طور پر 43 ہزار سے زائد پولیس اہلکار سکیورٹی فرائض انجام دیتے رہے، جن میں صرف پشاور میں 12 ہزار اہلکار شامل تھے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ، سراغ رساں کتے، سادہ لباس اہلکار، سیف سٹی کیمرے اور تین سطحی سکیورٹی نظام کے ذریعے تمام جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کی گئی جبکہ مختلف اضلاع میں دفعہ 144 بھی نافذ رہی۔

بلوچستان میں بھی یوم عاشور کے موقع پر 32 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے، جن میں صرف کوئٹہ میں 17 ہزار سے زائد اہلکار شامل تھے۔ جلوسوں کی فضائی نگرانی، سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مسلسل مانیٹرنگ، جلوسی راستوں پر واقع بازاروں کی بندش اور حساس علاقوں میں موبائل فون و انٹرنیٹ سروس کی معطلی سمیت سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے۔

ملک بھر میں ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، طبی امدادی ٹیمیں، موبائل ہیلتھ یونٹس، فیلڈ اسپتال اور صفائی کا عملہ بھی تعینات رہا۔ حکام کے مطابق سخت سکیورٹی انتظامات کے باعث ملک بھر میں یوم عاشور کے جلوس اور مجالس مجموعی طور پر پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوئیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں