حکومت نے آئندہ ہفتے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھ دیں

اسلام آباد (ایم این این): وفاقی حکومت نے جمعہ کو آئندہ ایک ہفتے کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد گزشتہ ہفتے دیے گئے ریلیف کو برقرار رکھا گیا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 299 روپے 50 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 311 روپے 47 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی۔

گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا۔

پیٹرول زیادہ تر نجی گاڑیوں، موٹرسائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی کا براہ راست اثر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے گھریلو اخراجات اور سفری لاگت پر پڑتا ہے۔

دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری، صنعتی شعبے، بجلی گھروں اور بڑے جنریٹروں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں ردوبدل سے مال برداری، اشیائے خورونوش کی قیمتوں اور مجموعی مہنگائی پر اثر پڑتا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کا نظام تبدیل کرتے ہوئے ہر جمعہ کو ہفتہ وار بنیادوں پر نئی قیمتوں کا اعلان شروع کیا تھا۔

جنگ کے دوران پہلی مرتبہ 6 مارچ کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جسے عوام اور مختلف حلقوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

بعد ازاں 3 اپریل کو پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد دونوں ایندھن کی قیمتیں بالترتیب 458 روپے 40 پیسے اور 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔

ریکارڈ اضافے پر عوامی ردعمل کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے صرف 24 گھنٹوں کے اندر پیٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کر کے پیٹرول کی قیمت 378 روپے فی لیٹر کر دی تھی۔ بعد ازاں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باعث حکومت نے مرحلہ وار قیمتیں کم کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت 300 روپے فی لیٹر سے نیچے لے آئی، جبکہ موجودہ ہفتے قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں