اسلام آباد (ایم این این): فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2026-27 کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کے محصولات کے ہدف کے حصول کی غرض سے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل نگرانی اور مؤثر ٹیکس تعمیل پر مبنی جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے۔
صحافی مہتاب حیدر کی ایک انگریزی روزنامے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر آئندہ مالی سال میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نگرانی کے نظام اور نئے ڈیجیٹل الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم کے ذریعے ٹیکس وصولی میں نمایاں اضافہ کرنا چاہتا ہے، حالانکہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان، ریئل اسٹیٹ سیکٹر اور دیگر شعبوں کو ٹیکس میں ریلیف بھی فراہم کیا ہے۔
ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) ریٹرنز کی ہر ماہ ڈیجیٹل بنیادوں پر جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ بے ضابطگیوں کی فوری نشاندہی ہو سکے اور ٹیکس وصولی میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافہ، خصوصاً بڑے صنعتی شعبے (ایل ایس ایم) کی کارکردگی، اور صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی شرح آئندہ مالی سال کے محصولات کے ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گی۔
حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پارلیمنٹ کو آگاہ کیا ہے کہ نفاذ، تعمیل، پالیسی اصلاحات اور بعض ٹیکس شرحوں میں تبدیلی سمیت مجموعی طور پر 26 اقدامات کے ذریعے آئندہ مالی سال میں ایک ہزار 20 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل کی جائے گی۔
رواں مالی سال کے لیے ایف بی آر کا محصولات کا ہدف کم کرتے ہوئے 12 ہزار 983 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ ابتدا میں پارلیمنٹ نے 14 ہزار 130 ارب روپے کا ہدف منظور کیا تھا، جسے بعد میں کم کر کے 13 ہزار 979 ارب روپے اور پھر مزید کم کر کے 12 ہزار 983 ارب روپے کر دیا گیا۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت رواں مالی سال کے لیے متفقہ ہدف 12 ہزار 961 ارب روپے ہے۔
رواں مالی سال میں محصولات کی کمی کے بارے میں سوال پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ پروگرام کے تحت بعض شعبوں پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا، تاہم اب جدید ڈیجیٹل نظام اور مؤثر نفاذ کے ذریعے آئندہ مالی سال میں زیادہ محصولات حاصل کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ضروری ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پہلے ہی تیار کیا جا چکا ہے اور اب مصنوعی ذہانت پر مبنی الگورتھمز کے ذریعے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس دونوں کی وصولی کو زیادہ مؤثر بنایا جائے گا۔
اس حکمت عملی کا اہم حصہ “الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم” ہے، جس کے تحت ٹیکس دہندگان کو کسی حتمی فیصلے سے پہلے ڈیجیٹل طور پر ٹیکس تنازعات کے تصفیے کی پیشکش کی جائے گی۔
یہ نظام مقدمے کی نوعیت، کارروائی کے مرحلے، ٹیکس دہندہ کے سابقہ ریکارڈ اور دیگر متعلقہ عوامل کا جائزہ لے کر خودکار طور پر تصفیے کی پیشکش کرے گا۔
اگر کوئی ٹیکس دہندہ اس پیشکش کو قبول کرنا چاہے تو اسے آئی آر آئی ایس پورٹل کے ذریعے دس دن کے اندر اپنی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے مقررہ رقم جمع کرانا ہوگی، جس کے بعد متعلقہ نوٹس یا آڈٹ رپورٹ میں اٹھایا گیا مخصوص معاملہ نمٹا دیا جائے گا۔
البتہ یہ تصفیہ صرف اسی مخصوص معاملے تک محدود ہوگا اور ایف بی آر کو دیگر ٹیکس معاملات یا مختلف ٹیکس ادوار کے حوالے سے کارروائی کرنے سے نہیں روکے گا۔
ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل آڈٹ اور خودکار نگرانی کے نظام کے ذریعے نہ صرف ٹیکس تنازعات میں کمی آئے گی بلکہ شفافیت، ٹیکس تعمیل اور حکومتی محصولات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔



