کارگو جہاز پر مبینہ حملے کے بعد امریکا کے ایران پر حملے، تہران کا سخت جواب دینے کا اعلان

تہران/واشنگٹن (ایم این این): آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی کارگو جہاز پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکی فوج نے جنوبی ایران میں مختلف اہداف پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی مذکورہ حملے کے جواب میں کی گئی۔

ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سفارتی وعدوں سے انحراف کا الزام عائد کیا۔

ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات یا جنگ بندی کے اصولوں کے پابند نہیں ہیں۔ ان کے بقول امریکی حملہ جنگ بندی کی “غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی” ہے جس کا نتیجہ بالآخر امریکا کے لیے “پسپائی اور پچھتاوا” ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ “الزام تراشی کا کھیل اب مزید نہیں چلے گا۔”

ایرانی حکام نے امریکی حملے کی تفصیلات محدود رکھی ہیں، تاہم انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اگر بحری جہاز ایرانی حکام کے ساتھ مطلوبہ رابطہ نہیں کریں گے تو ایران آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے اپنے فیصلے پر قائم رہے گا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری اور فضائی دفاعی فورسز نے جنوبی ایران کے علاقے سیریک جزیرے پر امریکی حملے کو ناکام بنا دیا۔

آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ اس کارروائی کا جواب ضرور دیا جائے گا اور ایران اپنی مرضی کے وقت اور مقام پر “تیز اور فیصلہ کن” ردعمل دے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ “کسی بھی نئی حماقت کا سخت جواب دیا جائے گا۔”

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ امریکی فضائیہ نے ایران میں میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں سمیت ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی 25 جون کو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز ایم وی ایور لوولی پر مبینہ ایرانی یک طرفہ ڈرون حملے کے بعد کی گئی۔

امریکی فوج نے الزام عائد کیا کہ ایران کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانا جنگ بندی کی خلاف ورزی اور عالمی تجارت کی اہم گزرگاہ میں بحری آمدورفت کی آزادی کے لیے خطرہ ہے۔

سینٹ کام نے مزید کہا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایران سے متعلق موجودہ معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے خطے میں موجود رہیں گی۔

ادھر ایرانی ذرائع ابلاغ نے جنوبی ایران کے علاقے سیریک میں زور دار دھماکے کی آواز سننے کی اطلاع دی، تاہم حکام نے کہا کہ دھماکے کی اصل وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔

یہ اطلاعات ایسے وقت سامنے آئیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کارگو جہاز پر مبینہ حملے کے بعد ممکنہ امریکی ردعمل کا اشارہ دیتے ہوئے صحافیوں کے سوال پر صرف اتنا کہا: “آپ کو جلد معلوم ہو جائے گا۔”

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں