نشریاتی دنیا کا تاریخی موڑ ، 100 سال بعد ریڈیو کی آواز بند

لندن:ایم این این

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے تقریباً ایک سو سال تک جاری رہنے والی اپنی روایتی ریڈیو سروس کے ایک اہم باب کو باضابطہ طور پر بند کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ عالمی نشریاتی صنعت کے لیے بھی ایک تاریخی موڑ تصور کیا جا رہا ہے۔
بی بی سی نے ریڈیو نشریات کا آغاز 1922 میں کیا تھا اور جلد ہی یہ ادارہ دنیا بھر میں معتبر خبروں، حالات حاضرہ کے پروگراموں، ثقافتی نشریات، موسیقی، کھیلوں کی کوریج اور تعلیمی مواد کی فراہمی کا ایک نمایاں ذریعہ بن گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران بھی بی بی سی ریڈیو نے لاکھوں افراد تک مستند معلومات پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بی بی سی کی روایتی ریڈیو سروس کئی دہائیوں تک برطانیہ کے گھروں، دفاتر، گاڑیوں اور عوامی مقامات کا لازمی حصہ رہی، تاہم ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور سامعین کی بدلتی ترجیحات نے نشریاتی صنعت کا منظرنامہ تبدیل کر دیا ہے۔
ادارے کے مطابق سامعین کی ایک بڑی تعداد اب روایتی ایف ایم اور اے ایم نشریات کے بجائے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، موبائل ایپلی کیشنز، پوڈکاسٹس، اسٹریمنگ سروسز اور آن ڈیمانڈ آڈیو مواد کی جانب منتقل ہو چکی ہے۔ اسی رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے بی بی سی نے اپنی نشریاتی حکمت عملی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ ریڈیو سروس کی بندش محض ایک تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ نشریاتی دنیا میں ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر کے نشریاتی ادارے روایتی ذرائع ابلاغ سے ہٹ کر ڈیجیٹل اور انٹرنیٹ پر مبنی پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ نوجوان نسل اور جدید صارفین تک زیادہ مؤثر انداز میں رسائی حاصل کی جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ریڈیو کی روایتی نشریات کا ایک طویل باب اختتام پذیر ہو رہا ہے، تاہم بی بی سی کی خبروں، تجزیوں، دستاویزی پروگراموں اور خصوصی آڈیو مواد کی دستیابی مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔
بی بی سی کی ریڈیو نشریات نے تقریباً ایک صدی تک دنیا بھر کے سامعین کو معلومات، تفریح اور تعلیم فراہم کی۔ اب ادارہ روایتی ٹرانسمیشن کے بجائے ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے اپنے سامعین کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں