پنجاب اور سندھ اسمبلیوں میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر ہونے والی بحث کے اختتامی مراحل میں ایک دلچسپ سیاسی منظرنامہ سامنے آیا، جہاں دونوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے خود ایوان میں اختتامی تقریر کرنے کے بجائے یہ ذمہ داری اپنے اپنے سینئر وزراء کے سپرد کی۔ پنجاب اسمبلی میں سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بجٹ بحث سمیٹتے ہوئے حکومتی اور پارٹی موقف کھل کر بیان کیا، جبکہ سندھ اسمبلی میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے حکومت سندھ کی جانب سے بجٹ پر جواب دیا۔ یوں ایوانوں میں محض بجٹ کا دفاع نہیں بلکہ دو مختلف طرز حکمرانی، دو سیاسی بیانیوں اور دو انداز سیاست کا بھی تقابلی جائزہ دیکھنے کو ملا۔
پنجاب اسمبلی میں مریم اورنگزیب کی تقریر نسبتاً اعداد و شمار، منصوبہ بندی اور کارکردگی پر مبنی دکھائی دی۔ انہوں نے صوبے کو درپیش مالی، انتظامی اور سماجی چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے قیام سے اب تک شروع کیے گئے متعدد منصوبوں کا تفصیلی ذکر کیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، کسان پیکج، نوجوانوں کے لیے پروگرامز، ماحولیات، صفائی ستھرائی، عوامی سہولتوں، محرم الحرام کے انتظامات اور فلاحی اقدامات سمیت مختلف شعبوں میں پنجاب حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کیا۔
مریم اورنگزیب نے اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا براہ راست جواب بھی دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت نے محدود وسائل کے باوجود عوامی فلاح کے متعدد منصوبے ریکارڈ مدت میں مکمل کیے ہیں۔ ان کی تقریر میں حکومتی اقدامات کا دفاع، مستقبل کے اہداف کا تعین اور اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب نمایاں رہا۔مریم اورنگزیب نے تحریک انصاف کا دور یاد دلایا تو ایوان میں موجود اپوزیشن ارکان کو سچ ایک آنکھ نہ بھایا،، حزب اختلاف کا سینیئر وزیر پنجاب کی تقریر کے دوران احتجاج تو سمجھ میں آتا ہے۔

عثمان خان/صحافی تجزیہ کار
نائب صدر نیشنل پریس کلب
عین اسی دوران سندھ اسمبلی میں بھی سینیئر وزیر کی جانب سے پنجاب حکومت کے خلاف تنقید کے نشتر چلانا اتفاقی تھا یا پری پلان منصوبہ۔ ۔شرجیل انعام میمن کی تقریر کا زیادہ حصہ پنجاب حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں پر تنقید کی نذر ہوتا دکھائی دیا۔ انہوں نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا دفاع ضرور کیا، تاہم ان کی تقریر میں سیاسی نکتہ چینی، وسائل کی کمی، وفاقی معاملات اور صوبائی محرومیوں کا تذکرہ زیادہ غالب رہا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق شرجیل میمن کی تقریر میں دفاعی انداز اور شکایتی بیانیہ نمایاں دکھائی دیا، جبکہ پنجاب حکومت پر تنقید اور سیاسی اسکور سیٹل کرنے کی کوششیں بھی واضح محسوس ہوئیں۔
اگر دونوں تقاریر کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو پنجاب کی سینئر وزیر نے اپنی تقریر کو حکومتی کارکردگی، منصوبوں کی تفصیلات اور عوامی خدمت کے بیانیے کے گرد رکھا، جبکہ سندھ کے سینئر وزیر کی تقریر میں سیاسی جوابی حملے اور وفاقی و بین الصوبائی شکوے شکایات نسبتاً زیادہ نمایاں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض سیاسی مبصرین پنجاب اسمبلی میں مریم اورنگزیب کی تقریر کو “کارکردگی نامہ” اور سندھ اسمبلی میں شرجیل میمن کی تقریر کو “سیاسی دفاعی حکمت عملی” قرار دے رہے ہیں۔
تاہم حتمی فیصلہ عوام، سیاسی مبصرین اور تاریخ نے کرنا ہے کہ بجٹ مباحث میں کون سا بیانیہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے؛ کارکردگی اور منصوبہ بندی کا بیانیہ یا سیاسی شکایات اور تنقید کا انداز۔ دونوں سینئر وزراء کی تقاریر نے یہ ضرور ثابت کیا کہ صوبائی سیاست میں اب بجٹ صرف مالی دستاویز نہیں رہا بلکہ سیاسی بیانیے کی جنگ کا ایک اہم میدان بھی بن چکا ہے۔



