دبئی/اسلام آباد (ایم این این): امریکہ کی جانب سے ایران کو تیل برآمد کرنے کی اجازت دینے کے لیے پابندیوں میں عارضی نرمی کے اعلان اور واشنگٹن و تہران کے درمیان حتمی امن معاہدے کی جانب پیش رفت کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
عالمی توجہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے امکانات پر مرکوز رہی، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی روانی میں اضافے کی توقع نے منڈیوں میں پائے جانے والے خدشات کو کم کیا ہے۔
ڈوئچے بینک کے تجزیہ کار جم ریڈ نے کہا کہ خطے سے آنے والی حالیہ پیش رفت مثبت رہی ہے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافے کے امکانات عالمی منڈیوں کو اعتماد فراہم کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو منگل سے متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت، آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ بحری آمدورفت اور خطے میں امن و استحکام کے اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات تقریباً 18 گھنٹے جاری رہے۔ قطر کے مطابق یہ مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئے اور فریقین نے اہم پیش رفت حاصل کی۔
قطر اور پاکستان، جنہوں نے مشترکہ طور پر مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا، نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک نے 60 روز کے اندر ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے جبکہ تکنیکی سطح کے مذاکرات فوری طور پر شروع ہوں گے۔
قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے مفاہمتی یادداشت اور بعد ازاں ہونے والے مذاکرات کو علاقائی استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل خطے میں ترقی، تعاون اور پائیدار امن کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
قطر اور پاکستان کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مذاکرات میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی اور حتمی معاہدے کے لیے ایک واضح روڈ میپ تشکیل دیا گیا، جبکہ تکنیکی ورکنگ گروپس کو مذاکرات آگے بڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
اسی دوران امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے تیل پر عائد پابندیوں میں 60 روزہ نرمی کا لائسنس جاری کیا تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری عبوری معاہدے کو تقویت دی جا سکے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت نے ایک حتمی اور پائیدار معاہدے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے۔
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض بیانات پر ایرانی حکام نے اعتراض کیا اور مذاکرات عارضی طور پر متاثر ہوئے، تاہم بعد ازاں فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ گئے اور بات چیت رات گئے تک جاری رہی۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی وفد نے بعض مواقع پر مذاکرات چھوڑنے کی دھمکی دی، تاہم عملی طور پر مذاکرات جاری رہے اور اہم پیش رفت حاصل کی گئی۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ساتھ مزید تعاون پر آمادہ ہوا ہے، اگرچہ ایرانی حکام نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
وینس کے مطابق آئندہ 60 روز کے دوران دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں پابندیوں میں نرمی، جوہری نگرانی، حساس جوہری مواد کے انتظام اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف معاملات پر تفصیلی مذاکرات جاری رکھیں گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ مذاکرات کے دوران اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک سے مسلسل رابطے میں رہا، جبکہ بعض اسرائیلی حلقوں نے مذاکراتی عمل میں محدود کردار پر تنقید بھی کی۔
امریکی نائب صدر نے مجموعی طور پر مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات اور سخت بیانات کے باوجود دونوں فریق مذاکرات جاری رکھنے اور پیش رفت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ حکام کو امید ہے کہ 60 روزہ روڈ میپ بالآخر ایک جامع امن معاہدے کی راہ ہموار کرے گا جو خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔



