امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا خلیجی اتحادیوں کو ایران معاہدے پر اعتماد، یو اے ای کی سلامتی کے عزم کا اعادہ

دبئی (ایم این این): امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی اور ایران کے ساتھ حالیہ امریکی معاہدے کے حوالے سے خلیجی اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے امارات کی سلامتی کے لیے واشنگٹن کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد خلیجی ممالک میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ کئی خلیجی ریاستوں کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے کی دیگر سکیورٹی خدشات کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ کے مطابق ملاقات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت، آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت، اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ مارکو روبیو نے ایران کے حملوں کے دوران متحدہ عرب امارات کی قیادت، جرات اور استقامت کو سراہا اور امارات کی سلامتی کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کیا۔

روبیو منگل کی شام ابوظہبی پہنچے تھے اور بدھ کو صدر شیخ محمد بن زاید کے ساتھ بند کمرہ ملاقات کی۔ انہوں نے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید النہیان اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔

بعد ازاں امریکی وزیر خارجہ کویت روانہ ہوگئے جبکہ جمعرات کو وہ بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

ابوظہبی پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی بھی ملک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس یا فیس عائد نہیں کر سکتا۔

یہ بیان ایران اور عمان کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر ممکنہ اخراجات عائد کرنے کے اشاروں کے بعد سامنے آیا۔

روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی راستہ ہے اور کسی ملک کو اس پر گزرنے والے بین الاقوامی جہازوں سے فیس وصول کرنے کا حق حاصل نہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ خلیجی ممالک کے تحفظات ان کی ملاقاتوں کا اہم حصہ ہوں گے اور وہ ان امور پر بھی بات کریں گے جو امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں شامل نہیں ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں ایران سے متعلق مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس زیادہ متحرک نظر آئے ہیں اور انہوں نے گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی تھی۔

امریکہ اور ایران نے گزشتہ ہفتے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور مستقل معاہدے کے لیے مذاکراتی عمل کا آغاز ہے۔ اس عبوری معاہدے کے تحت 60 روزہ مذاکراتی مرحلہ شروع کیا گیا ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام سمیت پیچیدہ معاملات پر بات ہوگی۔

مذاکرات کا ایک اہم نکتہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کا مستقبل ہے، جن میں 60 فیصد تک افزودہ مواد بھی شامل ہے جو ہتھیاروں کے درجے کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ایران مسلسل مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اگرچہ خلیجی ممالک نے جنگ کے خاتمے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم معاہدے کی بعض شقوں پر انہیں تحفظات ہیں۔ خاص طور پر 300 ارب ڈالر کے مجوزہ تعمیر نو فنڈ کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اس سے ایران اپنی فوجی صلاحیتوں کو دوبارہ مضبوط بنا سکتا ہے۔

خلیجی ممالک کو یہ شکایت بھی ہے کہ معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں، حالانکہ حالیہ جنگ کے دوران کئی خلیجی ممالک ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کی زد میں آئے تھے۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ بعض خلیجی ممالک نے امریکی فوجی کارروائیوں میں سہولت کاری کی اور اپنے ہاں موجود امریکی فوجی اڈوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہونے دیا۔

مارکو روبیو کا یہ دورہ خطے اور واشنگٹن دونوں میں گہری دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ انہیں ایک طرف صدر ٹرمپ کے حمایت یافتہ معاہدے کا دفاع کرنا ہے جبکہ دوسری جانب خلیجی اتحادیوں کے سکیورٹی خدشات کا بھی قابلِ اعتماد جواب دینا ہے۔ مذاکرات کے آئندہ مراحل میں علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز کی آزادی اور ایران کی عسکری صلاحیتوں سے متعلق ضمانتیں اہم موضوعات رہنے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں