انصاف کی منتظر زندگیاں: پاکستان میں تشدد، حراستی بدسلوکی اور جبری گمشدگیوں کی انسانی قیمت

تحریر: مریم کیانی

پاکستان کے ہزاروں خاندانوں کے لیے انصاف اب بھی ایک ایسی دعا ہے جس کی قبولیت کا انتظار ختم نہیں ہو رہا۔ مائیں آج بھی اپنے لاپتہ بیٹوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں، بیویاں ان شوہروں کی راہ تک رہی ہیں جو گھر سے گئے تو واپس نہ آئے، جبکہ بے شمار بچے اس غیر یقینی کیفیت میں پروان چڑھ رہے ہیں کہ آیا ان کے زیرِ حراست والد زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ تشدد، حراستی اموات یا جبری گمشدگیوں سے متعلق ہر اعداد و شمار کے پیچھے ایک ایسا خاندان موجود ہے جو بے یقینی، ذہنی صدمے اور ناقابلِ تلافی نقصان کی زندگی گزار رہا ہے۔

اگرچہ پاکستان کا آئین شہریوں کو بنیادی حقوق اور تحفظ فراہم کرتا ہے، تاہم ملک بھر سے دورانِ حراست تشدد اور ناروا سلوک کی اطلاعات بدستور سامنے آتی رہتی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد مبصرین نے ایسے متعدد الزامات کی نشاندہی کی ہے جن کے مطابق زیرِ حراست افراد سے اعترافِ جرم کروانے کے لیے مارپیٹ، برقی جھٹکے دینے، طویل حراست میں رکھنے اور دیگر جبر آمیز طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ کئی واقعات میں زیرِ حراست افراد کی موت بھی واقع ہوئی، جن کے بارے میں متاثرہ خاندانوں نے تشدد کے الزامات عائد کیے، جبکہ سرکاری وضاحتوں میں اکثر طبعی وجوہات کو موت کا سبب قرار دیا گیا۔

پاکستان کی جیلیں بدستور شدید گنجائش سے زیادہ بوجھ کا شکار ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جیلیں اپنی مقررہ استعداد سے اوسطاً 152 فیصد زیادہ قیدیوں کو رکھنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں بدسلوکی، ناکافی طبی سہولیات، ناقص صفائی ستھرائی اور طویل تنہائی جیسی مشکلات اور زیادتیوں کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

اس صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ معاشرے کے کمزور اور غیر محفوظ طبقات پر پڑتا ہے۔ نابالغ بچے، خواتین، نسلی اور مذہبی اقلیتیں اور سیاسی کارکن دورانِ حراست بدسلوکی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔ بعض رپورٹس میں بارہ برس تک کی عمر کے بچوں کو بھی ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال اور توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

اگرچہ تشدد اور حراستی اموات (روک تھام اور سزا) ایکٹ 2022 کے ذریعے تشدد کو باقاعدہ جرم قرار دیا جا چکا ہے، لیکن اس قانون پر مؤثر عملدرآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی تشدد کے خلاف کمیٹی کو پاکستان کی جانب سے جمع کرائی گئی معلومات کے مطابق 2019 سے 2025 کے درمیان حراستی تشدد سے متعلق 250 سے زائد مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت آئے، تاہم ان میں سے صرف 72 مقدمات میں سزائیں سنائی جا سکیں۔

دوسری جانب، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) نے سات ہزار سے زائد شکایات کی تحقیقات کیں، جن میں 103 مقدمات تشدد سے متعلق تھے، جبکہ مختلف جیلوں کے معائنے بھی کیے گئے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ احتساب کا نظام اب بھی کمزور ہے، شکایات درج کروانا مشکل عمل ہے اور رپورٹ ہونے والے واقعات کے مقابلے میں سزاؤں کی شرح انتہائی کم ہے۔

جبری گمشدگیاں بھی متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور اذیت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں، خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں یہ مسئلہ زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ جبری گمشدگیوں سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے مطابق مارچ 2011 سے اگست 2025 تک مجموعی طور پر 10 ہزار 618 مقدمات موصول ہوئے، جن میں سے 8 ہزار 873 نمٹا دیے گئے۔ اس کے باوجود ہزاروں خاندان آج بھی اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات کے منتظر ہیں اور خفیہ حراستوں اور استثنیٰ کی ثقافت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان خاندانوں کے لیے انصاف محض ایک قانونی عمل نہیں بلکہ سچائی جاننے، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور دوسروں کو اسی اذیت سے بچانے کی امید کا نام ہے۔ جب تک مؤثر اصلاحات کے ذریعے نگرانی کے نظام کو مضبوط، تحقیقات کو غیر جانبدار اور متاثرین کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا، تشدد اور جبری گمشدگیوں کے زخم پاکستان بھر کی برادریوں کو اذیت پہنچاتے رہیں گے۔

تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تشدد کے مکمل خاتمے، انسانی وقار کے تحفظ، متاثرین کو طبی، نفسیاتی، قانونی اور سماجی معاونت کی فراہمی اور ذمہ دار عناصر کے احتساب کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین سمیت تنازعات سے متاثرہ علاقوں کے متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا۔

اگرچہ وزیراعظم کا یہ بیان انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، تاہم متعدد مبصرین کا خیال ہے کہ ان وعدوں کی اصل جانچ اس وقت ہوگی جب انہیں ملک کے اندر متاثرین کے تحفظ، مضبوط احتساب اور مؤثر قانونی اصلاحات کی صورت میں عملی جامہ پہنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں