ایرانی ڈرونز کا بحرین پر حملہ، آبنائے ہرمز میں جہاز بھی نشانہ بن گیا، امریکی فضائی حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ

دبئی (ایم این این): مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکہ کے حالیہ فضائی حملوں کے بعد ایران نے مبینہ طور پر بحرین پر ڈرون حملہ کیا، جبکہ اسی دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والا ایک تجارتی جہاز بھی حملے کی زد میں آ گیا۔ ان واقعات نے خطے میں وسیع تر تصادم کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

بحرینی حکام کے مطابق ایرانی ڈرونز نے ایسے علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جہاں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں، خصوصاً بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا ہیڈکوارٹر۔ بحرین نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اپنی خودمختاری اور علاقائی سلامتی پر حملہ قرار دیا۔ حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا، جس کے باعث کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

ادھر آبنائے ہرمز سے گزرنے والا ایک تجارتی جہاز بھی حملے کی زد میں آ گیا۔ بین الاقوامی میری ٹائم سیکیورٹی اداروں کے مطابق جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم وہ ڈوبنے سے محفوظ رہا اور عملہ بھی محفوظ رہا۔ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی سے منسلک ہو سکتا ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکہ نے ایران کے میزائل ذخائر، ڈرون تنصیبات اور ساحلی دفاعی مراکز پر فضائی حملے کیے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کے جواب میں کی گئی تھی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے امریکی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحرین میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنانا “جوابی کارروائی” کا حصہ تھا۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے مزید فوجی کارروائیاں کیں تو ایران اس سے بھی سخت جواب دے گا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، شپنگ انشورنس اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

صورتحال کے پیش نظر کئی بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے آبنائے ہرمز سے اپنے جہازوں کی آمدورفت کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، جبکہ بعض کمپنیوں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنے بحری راستے تبدیل یا سفر مؤخر کر دیے ہیں۔ میری ٹائم سیکیورٹی اداروں نے بھی خطے میں جہاز رانی کے خطرات بڑھنے کے باعث نئی حفاظتی ہدایات جاری کی ہیں۔

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ خلیج میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گا۔ امریکی حکام نے ایران کو مزید حملوں سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی مفادات یا بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

بحرین، خلیجی ممالک اور متعدد عالمی طاقتوں نے حالیہ حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کریں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں مزید عدم استحکام سے بچا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکہ کے درمیان یہ کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف خلیجی خطے کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں