اسلام آباد:ایم این این
چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایک شناختی کارڈ کے ساتھ 5 ہزار خواتین کے منسلک ہونے کی خبریں حقائق کے منافی ہیں۔
اپنے بیان میں سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ میں 5 ہزار 598 ازدواجی ڈیٹا میں عدم مطابقت کے کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے، نہ کہ کسی ایک شخص کی 5 ہزار 598 بیویوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقے آڈٹ مشاہدات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر رہے ہیں، جبکہ متعدد بیویوں کے اندراج سے کسی بھی خاندان کو اضافی مالی فائدہ حاصل نہیں ہوتا کیونکہ ایک خاندان کو صرف ایک ہی ادائیگی کی جاتی ہے، خواہ بیویوں کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی کے مطابق پروگرام کی تمام ادائیگیاں نادرا کی تصدیق اور مکمل پروفائلنگ کے بعد کی جاتی ہیں اور نادرا سے تصدیق کے بغیر کسی مستحق کو ادائیگی ممکن نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ زیر بحث کیسز ریکارڈ کی درستی اور ڈیٹا پروفائلنگ سے متعلق ہیں اور ان کا کسی قسم کی خردبرد یا مالی بے ضابطگی سے کوئی تعلق نہیں۔ جون 2025 میں بی آئی ایس پی ڈیٹا کی دوبارہ تصدیق مکمل کی جا چکی ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا ڈیٹا بیس 3 کروڑ 87 لاکھ گھرانوں اور تقریباً 20 کروڑ شناختی ریکارڈز پر مشتمل ہے، ایسے بڑے ڈیٹا بیس میں 5 ہزار 598 عدم مطابقت کے کیسز مؤثر نگرانی اور آڈٹ کے نظام کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی تضاد کی صورت میں ادائیگی سے قبل اصلاح، تصدیق اور ریکوری کے مؤثر نظام موجود ہیں اور بی آئی ایس پی میں شفافیت اور مستحقین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت جانچ پڑتال کا نظام نافذ ہے۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ پروگرام کی افادیت اور شفافیت کی گواہی عالمی اداروں کی مختلف رپورٹس میں بھی موجود ہے اور عوام سے اپیل کی کہ اس حوالے سے غیر مصدقہ اور گمراہ کن خبروں کے پھیلاؤ سے گریز کیا جائے



