بنائے ہرمز پر مجوزہ ٹول نظام روکنا مارکو روبیو کے خلیجی دورے کا اہم مقصد قرار

کویت سٹی/اسلام آباد (ایم این این): امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا تین روزہ خلیجی دورہ صرف خطے کے اتحادی ممالک کو سکیورٹی یقین دہانیاں کرانے تک محدود نہیں بلکہ اس کا ایک اہم مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر مجوزہ ٹول نظام کی حمایت سے خلیجی ممالک کو باز رکھنا بھی ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق تیل پیدا کرنے والے متعدد خلیجی ممالک اصولی طور پر اس امکان پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہاز ایران اور عمان کو مخصوص فیس یا ٹول ادا کریں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان اس حوالے سے حتمی طریقہ کار پر مشاورت جاری ہے، جبکہ مارکو روبیو کا حالیہ دورہ خلیجی ممالک کو اس منصوبے کی حمایت نہ کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق بعض خلیجی ریاستوں نے امریکہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلوں میں ان کے قومی مفادات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے کیونکہ ان کی تیل بردار جہازوں کی اکثریت اسی آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔

مارکو روبیو منگل کی شب ابوظہبی پہنچے تھے اور ان کا یہ دورہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی معاہدے پر خلیجی اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

کویت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکہ اپنے دیرینہ اتحادیوں کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔

حالیہ جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول قائم کر لیا تھا جس کے نتیجے میں تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی اور بین الاقوامی توانائی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی۔

ابوظہبی میں روبیو نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان، قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید النہیان اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقاتیں کیں۔

ملاقاتوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت، آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت اور خطے کے امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بعد ازاں روبیو کویت پہنچے جہاں انہوں نے امیرِ کویت شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح سے ملاقات کی اور علاقائی سلامتی و استحکام کے امور پر گفتگو کی۔

انہوں نے کویت میں امریکی سفارت خانے پر پرچم کشائی کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ سفارت خانے کی سرگرمیاں حالیہ جنگ کے دوران ڈرون حملوں کے باعث عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔

متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین تینوں ممالک میں اہم امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اور حالیہ جنگ کے دوران یہ ممالک ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بھی بنے تھے۔

خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے نتیجے میں ایران کو بڑے مالی فوائد حاصل ہوں گے جبکہ اس کی عسکری صلاحیتوں پر خاطر خواہ پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی۔

خصوصاً 300 ارب ڈالر کے مجوزہ تعمیر نو فنڈ پر خلیجی ممالک کو تشویش ہے کہ اس رقم کو ایران اپنی فوجی طاقت کی بحالی اور توسیع کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

خلیجی ممالک اس بات پر بھی تحفظات رکھتے ہیں کہ معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں، حالانکہ یہی پروگرام حالیہ جنگ کے دوران ان ممالک کے لیے سب سے بڑا سکیورٹی خطرہ ثابت ہوا تھا۔

دریں اثنا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل میں زیادہ نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ مارکو روبیو خطے کے اتحادی ممالک کو اعتماد میں لینے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام و انصرام سے متعلق علاقائی مشاورت امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات سے الگ جاری ہے۔

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے بدھ کو مسقط کا دورہ کیا جہاں انہوں نے عمانی قیادت سے ایران، عراق اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان ممکنہ علاقائی مذاکرات کے آغاز پر تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں سعودی عرب میں ایران، خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی فریقوں کے درمیان مفاہمتی مذاکرات بھی متوقع ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران نے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کے تحت جنگ کے خاتمے اور 60 روزہ مذاکراتی عمل کا آغاز کیا گیا۔ اس دوران ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی پیچیدہ معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

مذاکرات میں ایران کے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخائر کا مستقبل ایک اہم موضوع ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

مبصرین کے مطابق مارکو روبیو کو ایک نازک سفارتی توازن قائم رکھنا ہوگا کیونکہ ایک طرف انہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ معاہدے کا دفاع کرنا ہے جبکہ دوسری جانب خلیجی اتحادیوں اور امریکی کانگریس کے بعض ریپبلکن ارکان کے تحفظات کا بھی جواب دینا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں