وینزویلا میں تباہ کن دوہرا زلزلہ، ہزاروں افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ، عالمی امدادی کارروائیاں تیز

کراکس/واشنگٹن (ایم این این): وینزویلا میں دو انتہائی طاقتور زلزلوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ ہزاروں شہری تاحال لاپتہ ہیں۔ دارالحکومت کراکس اور اس کے گرد و نواح میں متعدد عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے دن رات مصروف ہیں۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کی دوپہر کراکس سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں 7.2 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے ایک منٹ سے بھی کم وقت بعد 7.5 شدت کا دوسرا شدید جھٹکا محسوس کیا گیا۔ دونوں زلزلوں کے بعد آنے والے آفٹر شاکس نے تباہی میں مزید اضافہ کر دیا۔

عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے بتایا کہ اب تک کم از کم 164 افراد کی ہلاکت اور تقریباً ایک ہزار کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم ہلاکتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ درجنوں عمارتوں کے ملبے تلے اب بھی بڑی تعداد میں لوگ دبے ہوئے ہیں۔

کراکس کے قریب واقع لا گوئیرا ریاست سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ یہ ریاست ملک کے مرکزی ہوائی اڈے کی میزبانی کرتی ہے۔ عینی شاہدین کی ویڈیوز میں ہوائی اڈے کی چھتوں کے گرنے، ساحلی علاقوں میں عمارتوں کی تباہی اور شہریوں میں شدید خوف و ہراس کے مناظر دیکھے گئے۔

کارابوبو ریاست کے ساحلی قصبے مورون میں، جو زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ہے، متعدد مکانات منہدم ہو گئے جبکہ پانی اور بجلی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ مقامی حکام کے مطابق علاقے میں کم از کم آٹھ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

متاثرین نے بتایا کہ زمین مسلسل لرز رہی تھی اور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پورا شہر ان پر گرنے والا ہو۔ کئی خاندان اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے گھروں کو ملبے میں تبدیل ہوتے دیکھتے رہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے نے پیش گوئی کی ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے جبکہ یہ امکان بھی موجود ہے کہ جاں بحق افراد کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر جائے۔ دوسری جانب لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے قائم ایک آن لائن پلیٹ فارم پر چوبیس ہزار سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات درج کی گئی ہیں۔

زلزلے ایسے وقت میں آئے جب سرکاری تعطیل کے باعث زیادہ تر شہری اپنے گھروں میں موجود تھے۔ کراکس کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے عمارتوں کے شدید جھٹکوں، سامان کے گرنے اور خوفزدہ شہریوں کے چیخ و پکار کے مناظر بیان کیے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ آفت ایک ایسے ملک میں پیش آئی ہے جو پہلے ہی شدید معاشی مشکلات، خستہ حال بنیادی ڈھانچے اور انسانی بحران کا شکار ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق زلزلوں سے قبل بھی تقریباً آٹھ ملین وینزویلین شہری انسانی امداد کے محتاج تھے۔

امریکا، اسپین، فرانس، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، جمہوریہ چیک، چین، ایران، میکسیکو، برازیل، ایل سلواڈور، کیوبا، چلی اور دیگر کئی ممالک نے امدادی ٹیمیں، طبی عملہ، سرچ اینڈ ریسکیو ماہرین، امدادی سامان اور مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جانی نقصان کو “انتہائی تباہ کن” قرار دیا جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امدادی ٹیموں اور فوجی وسائل کی روانگی کی تصدیق کی۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے فوری امدادی سرگرمیوں کے لیے 25 لاکھ ڈالر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ سے منظور شدہ ریسکیو ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے روانہ ہو رہی ہیں۔

حکام نے ملک بھر میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں، جبکہ کراکس اسٹاک ایکسچینج کو بند کر کے امدادی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وینزویلا ریڈ کراس کے ہیڈکوارٹر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم تنظیم نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق وینزویلا ایسے زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے جہاں کیریبین اور جنوبی امریکی زمینی پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔ ملک کی تاریخ میں 1812 کا تباہ کن زلزلہ اور 1967 کا کراکس زلزلہ بھی بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا سبب بن چکے ہیں۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور انسانی جانوں کو بچانے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے، جبکہ پوری دنیا کی نظریں وینزویلا میں جاری ریسکیو آپریشن پر مرکوز ہیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں