چین اور بنگلہ دیش نے تعلقات کو ’’مشترکہ مستقبل کی شراکت داری‘‘ تک وسعت دے دی

بیجنگ (شِنہوا/ایم این این): چین کے صدر شی جن پنگ اور بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے جمعہ کو بیجنگ میں ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ’’نئے دور میں مشترکہ مستقبل پر مبنی چین۔بنگلہ دیش برادری‘‘ کے قیام کا اعلان کیا۔

چینی صدر نے کہا کہ چین ہمیشہ بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی، ہمسائیگی اور باہمی اعتماد پر مبنی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی حالات خواہ جیسے بھی ہوں، چین بنگلہ دیش کا قابل اعتماد دوست، اچھا ہمسایہ اور مضبوط شراکت دار بنا رہے گا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کے خلاف حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ چین بنگلہ دیش کی نئی حکومت کی ترقیاتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت اعلیٰ معیار کے تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

صدر شی نے کہا کہ دونوں ممالک گرین اور کم کاربن ترقی، ڈیجیٹل معیشت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صحت، تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔ انہوں نے چین، میانمار اور بنگلہ دیش اقتصادی راہداری کو بھی علاقائی روابط اور اقتصادی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ چین اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی فورمز پر بنگلہ دیش کے ساتھ قریبی رابطہ اور تعاون جاری رکھے گا تاکہ ایک منصفانہ عالمی نظام، جامع اقتصادی ترقی اور ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

وزیراعظم طارق رحمان نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 105ویں سالگرہ پر مبارکباد دیتے ہوئے چین کو بنگلہ دیش کا قابل اعتماد اور انتہائی اہم شراکت دار قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ چین کی جدید ترقی کا ماڈل بنگلہ دیش کے لیے قابل تقلید ہے اور ان کا ملک تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، رابطہ کاری، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، گرین انرجی، تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے تاکہ بنگلہ دیش کی جدید ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

طارق رحمان نے ایک چین پالیسی سے اپنی حکومت کی مکمل وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے اور بنگلہ دیش کسی بھی قسم کی ’’تائیوان کی آزادی‘‘ کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758 کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

انہوں نے صدر شی جن پنگ کے ’’انسانیت کے مشترکہ مستقبل‘‘ کے تصور اور عالمی ترقی سے متعلق چار بڑے اقدامات کو عالمی امن، پائیدار ترقی، بین الاقوامی انصاف اور مساوات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔

وزیراعظم طارق رحمان نے کہا کہ بنگلہ دیش علاقائی اور عالمی امور پر چین کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے، اقوام متحدہ پر مبنی عالمی نظام کی حمایت اور دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظم کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں