کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں دہشت گردوں نے سندھ رینجرز کے پیراملٹری بیس کو نشانہ بنایا ہے۔
پاکستانی فورسز نے حملے کا فوری اور بھرپور جواب دیا ہے، اور اس وقت دونوں طرف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
علاقے کو کلیئر کرانے کے لیے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سندھ رینجرز نے مبینہ طور پر دہشتگردی کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے گلشنِ اقبال کے قریب رینجرز کی ایک تنصیب کو بارود سے بھری گاڑی (VBIED) کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم مرکزی گیٹ پر تعینات اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو تنصیب تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا۔ ذرائع کے مطابق مقابلے میں پانچ دہشت گرد مارے گئے، جبکہ علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور سکیورٹی فورسز نے اطراف کو گھیرے میں لے کر سیل کر دیا ہے۔ سرکاری سطح پر مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں ہفتہ کے روز سندھ رینجرز کے مقامی ہیڈکوارٹر پر دہشت گردوں کے حملے میں کم از کم تین رینجرز اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین حملہ آور بھی مارے گئے۔
سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل جاوید عالم اوڈھو کے مطابق دہشت گردوں نے مبینہ طور پر اپنی گاڑی مرکزی گیٹ سے ٹکرا کر حملہ کیا، تاہم دھماکے کی نوعیت کی تصدیق ابھی جاری ہے۔
واقعے کے بعد اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (SSU)، اینٹی ٹیررسٹ فورس (ATF) اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔
فائرنگ اور ممکنہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ریپڈ ریسپانس فورس، کمانڈوز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔
ریسکیو 1122 سندھ نے گلستانِ جوہر بلاک 5 کے قریب دھماکے کی اطلاع ملنے پر فوری طور پر امدادی ٹیمیں روانہ کیں، جبکہ اعلیٰ حکام بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور ہدایت کی ہے کہ صورتحال پر مکمل قابو پا کر واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔



