اگر آپ کو بلوچستان میں رہنا پڑ جائے تو؟

تحریر :عائشہ ناز

بلوچستان کے بارے میں جب بھی سوچتی ہوں تو ایک بنیادی سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا ہم، جو نسبتاً محفوظ اور معمول کی زندگی گزارنے کے عادی ہیں، وہاں جا کر اسی آزادی کے ساتھ زندگی بسر کر سکتے ہیں؟ شاید اس سوال کا جواب اتنا آسان نہیں جتنا دور بیٹھ کر محسوس ہوتا ہے۔

ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والے اکثر لوگ بلوچستان کو صرف خبروں کی حد تک جانتے ہیں، جبکہ وہاں رہنے والے لوگ روزانہ ایسے حالات کا سامنا کرتے ہیں جو کسی بھی معاشرے کے لیے غیر معمولی ہیں۔ یہی وہ فرق ہے جو زمینی حقیقت اور دور بیٹھے تجزیے کے درمیان موجود ہے۔

بلوچستان کا بحران صرف بندوقوں کا نہیں بلکہ اعتماد کے ٹوٹ جانے کا بھی ہے۔ جب ایک خطہ برسوں تک بدامنی، خوف، مسلح کارروائیوں اور سیاسی کشمکش کی زد میں رہے تو سب سے پہلے سماجی رشتے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ہر شخص اپنے فیصلے آزادانہ طور پر نہیں کر سکتا، کیونکہ خوف اکثر آزادیِ رائے سے زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے۔

یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اگر مسلح تنظیمیں عوامی حمایت کی دعویدار ہیں تو پھر عام شہری خود کو غیر محفوظ کیوں محسوس کرتے ہیں؟ اگر کسی نظریے کو برقرار رکھنے کے لیے لوگوں کو دھمکی، دباؤ، بلیک میلنگ یا خوف کے ذریعے خاموش رکھنا پڑے تو اس کا سب سے بڑا نقصان خود مقامی آبادی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں کسی عام شہری سے یہ توقع کرنا کہ وہ کھل کر کسی مسلح گروہ کا بائیکاٹ کرے، زمینی حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ جب جان، خاندان اور روزگار خطرے میں ہوں تو فیصلے نظریات سے زیادہ بقا کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔

دوسری طرف ریاستی ادارے، انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز بھی ایک انتہائی پیچیدہ ماحول میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوتے ہیں۔ وسیع جغرافیہ، دشوار گزار علاقے، مسلسل سیکیورٹی خطرات اور مقامی آبادی کا اعتماد بحال رکھنے کی ذمہ داری—یہ سب ایسے چیلنجز ہیں جنہیں دور بیٹھ کر مکمل طور پر سمجھنا آسان نہیں۔ تاہم، پائیدار امن کے لیے صرف سیکیورٹی اقدامات کافی نہیں ہوتے؛ عوام کا اعتماد، قانون کی بالادستی، انصاف اور ترقی بھی اتنے ہی اہم ستون ہیں۔

بلوچستان کے بارے میں رائے قائم کرنا آسان ہے، لیکن بلوچستان کو سمجھنا مشکل ہے۔ جو لوگ صرف ٹی وی اسکرینوں یا سوشل میڈیا کی بنیاد پر فیصلے سناتے ہیں، انہیں ایک بار اس خطے کے زمینی حقائق، وہاں کے خوف، محرومیوں اور روزمرہ زندگی کو قریب سے دیکھنا چاہیے۔ شاید اس کے بعد ان کے تجزیے زیادہ متوازن اور حقیقت سے قریب ہوں۔

بلوچستان کے عوام میرے لیے احترام اور ہمدردی کا باعث ہیں۔ وہ ایسے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں معمول کی زندگی بھی ایک جدوجہد بن چکی ہے۔ اسی لیے میرا ماننا ہے کہ اس مسئلے کو جذباتی نعروں یا یکطرفہ بیانیوں کے بجائے گہرے فہم، حقیقت پسندانہ تجزیے اور تمام متاثرہ فریقوں کے انسانی پہلو کو سامنے رکھ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

آخر میں یہی سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اگر ہم خود کو ایک لمحے کے لیے بلوچستان کے ایک عام شہری کی جگہ رکھ کر سوچیں، تو کیا ہم اسی اعتماد، آزادی اور بے خوفی کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے جس کے دعوے ہم دور بیٹھ کر کرتے ہیں؟ شاید یہی سوال ہمیں بلوچستان کو سمجھنے کے قریب لے جاتا ہے۔

nazayesha508@gmail.com

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں