اسلام آباد: ایم این این
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ یہ گفتگو ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر کشمیری عوام اور پاکستانی قوم شدید تشویش میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیر کے امن و امان اور سلامتی کے حوالے سے فکر مند ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سردار عمر عزیز، خواجہ مہران ایڈووکیٹ اور شوکت نواز میر نے انہیں باقاعدہ دستخط شدہ مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں کشمیر میں پیدا ہونے والے بحران اور کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے کشمیر اور پاکستان کے بہترین مفاد میں مصالحتی کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم، ثالثی کے مؤثر کردار کے لیے انہیں وقت اور مہلت درکار ہے تاکہ حکومت سے رابطہ کرکے مذاکرات کا آغاز ممکن بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکن دھرنے میں موجود ہیں اور آئندہ لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں۔ محرم الحرام کے پہلے عشرے کو تمام مسلمانوں کے لیے مقدس اور حساس قرار دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ پہلے مرحلے میں اپنا دھرنا ختم کرے اور مزید احتجاجی اقدامات سے گریز کرے، تاکہ مذاکرات اور مسئلے کے حل کی جانب پیش رفت کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ دھرنے کے شرکاء، قیادت اور حکومت کو کسی مشترکہ مؤقف کے قریب لانے کے لیے بات چیت کا آغاز ضروری ہے۔ انہوں نے دونوں فریقوں سے نرم رویہ اختیار کرنے، مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرنے اور بحران کے حل کے لیے مثبت اقدامات اٹھانے کی درخواست کی۔
مولانا فضل الرحمان نے امید ظاہر کی کہ کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور حکومت وقت ان کی اپیل کو مثبت انداز میں لیں گے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں گے۔



