وزیرستان (ایم این این): اپر جنوبی وزیرستان میں نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر ایک ایس ایچ او اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکاروں سمیت آٹھ پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز اور پولیس نے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ضلعی پولیس افسر ارشد خان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اغوا ہونے والوں میں سراروغہ تھانے کے ایس ایچ او احمد شاہ اور بم ڈسپوزل یونٹ کے دو اہلکار بھی شامل ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق اہلکاروں کو سراروغہ تحصیل کے دور افتادہ علاقے پرتوگئی میں ایک مشتبہ غیر پھٹا ہوا دھماکہ خیز مواد (یو ایکس او) ناکارہ بنانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ یہ ایسا دھماکہ خیز مواد ہوتا ہے جو استعمال کے وقت نہیں پھٹتا لیکن بعد میں بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق بم ڈسپوزل یونٹ نے کامیابی کے ساتھ دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنایا اور تمام ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد واپسی کے لیے روانہ ہو گئی۔
تاہم واپسی کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی گاڑی کو روک لیا، اہلکاروں کو یرغمال بنایا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے اور انہوں نے پولیس ٹیم کے آپریشن مکمل کرنے کے بعد کارروائی کی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔
ڈی پی او ارشد خان نے کہا کہ اغوا کاروں کا سراغ لگانے اور اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اہم پہاڑی راستوں، داخلی و خارجی مقامات اور حساس علاقوں میں ناکے اور چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں تاکہ اغوا کاروں کی نقل و حرکت محدود کی جا سکے۔
ارشد خان کے مطابق اغوا شدہ اہلکاروں کی محفوظ بازیابی اولین ترجیح ہے اور تفتیش ہر ممکن پہلو سے جاری ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ابتدائی رپورٹ روزنامچہ میں درج کر لی گئی ہے جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ قبائلی عمائدین، مقامی مشران اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے حکومت اور سکیورٹی اداروں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مغوی اہلکاروں کی جلد بازیابی ممکن بنائی جا سکے۔
مقامی رہنماؤں نے علاقے میں سکیورٹی کے مؤثر انتظامات اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر بھی زور دیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اپر جنوبی وزیرستان میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دہشت گردی اور امن و امان سے متعلق واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں فائرنگ اور تشدد کے متعدد واقعات پیش آئے جن میں کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ پولیس اور انتظامی حکام کے مطابق سکیورٹی چیلنجز میں اضافے کے باعث مقامی آبادی میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بڑا چیلنج ہیں بلکہ خطے میں معمولات زندگی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
مقامی باشندوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اپر جنوبی وزیرستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور تشدد کی لہر پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مئی 2026 کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال دوبارہ خراب ہوئی۔



