کاراکاس، وینزویلا (ایم این این): وینزویلا میں آنے والے دو تباہ کن زلزلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 920 ہو گئی ہے، جبکہ 50 ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو زندہ نکالنے کے لیے دن رات ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
قومی اسمبلی کے صدر خورخے روڈریگیز نے جمعہ کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد پہلے جاری کیے گئے 589 کے اعداد و شمار سے بڑھ کر 920 ہو گئی ہے۔ انہوں نے شدید متاثرہ ساحلی ریاست لا گوائیرا میں فوج کی اضافی نفری تعینات کرنے کا بھی اعلان کیا تاکہ امدادی کارروائیوں کو مزید تیز کیا جا سکے۔
ریکٹر اسکیل پر 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے بدھ کی شام دارالحکومت کاراکاس سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں آئے، جنہوں نے دارالحکومت اور اس کے گردونواح میں وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی۔ یہ زلزلے لاطینی امریکہ کی جدید تاریخ کے طاقتور ترین اور مہلک ترین زلزلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق اب تک 3 ہزار 360 افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ سیکڑوں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ لاپتہ افراد کی رجسٹریشن کے لیے قائم کی گئی سرکاری ویب سائٹ پر جمعہ کی سہ پہر تک 50 ہزار سے زائد افراد کے نام درج کیے جا چکے تھے، جس کی تصدیق اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی رابطہ کار ٹام فلیچر نے بھی کی۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے، جس سے یہ سانحہ گزشتہ ایک صدی کے دوران لاطینی امریکہ کے بدترین زلزلوں میں شامل ہو سکتا ہے۔
کاراکاس کے قریب ساحلی شہر لا گوائیرا سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 100 سے زائد عمارتیں، جن میں کئی بلند و بالا رہائشی ٹاورز بھی شامل ہیں، مکمل طور پر منہدم ہو گئیں۔
متاثرہ شہریوں نے امدادی کارروائیوں میں استعمال ہونے والی بھاری مشینری کی شدید کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ جینیفر پالاسیوس نے بتایا کہ ان کا چھ سالہ بیٹا اور خاندان کے پانچ دیگر افراد ایک رہائشی عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی افراد کو زندہ نکالا۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بچانے کے لیے فوری طور پر کرینوں اور بھاری مشینری کی ضرورت ہے کیونکہ اب بھی کئی افراد ملبے کے نیچے زندہ پھنسے ہوئے ہیں۔
ایک اور متاثرہ خاتون یامیلیت خیمنیز نے بتایا کہ ان کا 19 سالہ بیٹا سات منزلہ عمارت کے ملبے تلے دبا ہوا ہے، لیکن مناسب مشینری نہ ہونے کے باعث امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔
عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے اور متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا، تاہم کئی شہریوں نے شکایت کی کہ بعض علاقوں میں سرکاری امداد ابھی تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ سکی۔
دوسری جانب ملک بھر سے رضاکار متاثرین کی مدد کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔ کاراکاس، ویلنسیا اور دیگر شہروں سے موٹر سائیکلوں پر خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروری سامان لا گوائیرا پہنچایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی برادری نے بھی امدادی کارروائیوں میں بھرپور حصہ لینا شروع کر دیا ہے۔ ڈومینیکن ریپبلک، میکسیکو، ایل سلواڈور، اسپین، کولمبیا، سوئٹزرلینڈ اور جرمنی نے ریسکیو ٹیمیں، تربیت یافتہ کتے، جدید سرچ آلات اور دیگر امدادی سامان روانہ کیا ہے۔
امریکہ نے 150 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان کرتے ہوئے انسانی بنیادوں پر بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کر دی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی امدادی ٹیمیں ریسکیو آپریشن میں حصہ لیں گی جبکہ پینٹاگون کاراکاس کے متاثرہ ہوائی اڈے کی بحالی میں بھی تعاون کرے گا۔
خورخے روڈریگیز نے عالمی برادری کی مدد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی امدادی ٹیموں کو مختلف متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
یہ قدرتی آفت ایسے وقت میں آئی ہے جب وینزویلا پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق تقریباً 70 لاکھ افراد اس سانحے سے متاثر ہو سکتے ہیں اور انہیں ہنگامی رہائش، خوراک اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے گھر، کاروبار اور زندگی بھر کی جمع پونجی کھو دی ہے۔ کارابوبو ریاست کے شہر مورون میں بھی زلزلے کے مرکز کے قریب شدید تباہی ہوئی، جہاں بجلی اور پانی کی فراہمی معطل ہے اور لوگ ملبے سے اپنا سامان نکالنے میں مصروف ہیں۔
حکام کے مطابق اگرچہ رہائشی علاقوں میں شدید نقصان ہوا ہے، تاہم وینزویلا کی اہم تیل تنصیبات محفوظ رہی ہیں اور تیل کی پیداوار میں کوئی بڑا خلل نہیں آیا۔
کاراکاس اسٹاک ایکسچینج کو عارضی طور پر امدادی سامان جمع کرنے کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ متاثرین تک فوری امداد پہنچائی جا سکے۔
1967 کے بعد یہ وینزویلا کی جدید تاریخ کا سب سے ہولناک زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 1967 کے زلزلے میں 240 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ حالیہ سانحہ اس سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ہے۔



