لندن (ایم این این): برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی جماعت لیبر پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ اور حمایت میں کمی کے بعد پیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کے ساتھ ہی ایک ایسے دور کا اختتام ہوا جس سے برطانیہ میں سیاسی استحکام اور عملی طرزِ حکمرانی کی امیدیں وابستہ کی گئی تھیں۔
2024 کے عام انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کر کے اقتدار میں آنے والے اسٹارمر ابتدا میں برطانیہ کو سیاسی انتشار سے نکالنے والے رہنما کے طور پر دیکھے جا رہے تھے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان پر واضح نظریاتی سمت نہ رکھنے اور فیصلہ سازی میں ہچکچاہٹ کے الزامات بڑھتے گئے۔
پارٹی کے اندر موجود ذرائع کے مطابق اسٹارمر مختلف دھڑوں، مفاداتی گروہوں اور عوامی توقعات کے درمیان توازن قائم کرنے میں مشکلات کا شکار رہے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے مستقبل کے لیے کوئی واضح وژن پیش کرنے میں ناکام رہے۔
ان کے دورِ حکومت میں متعدد حکومتی پالیسیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کابینہ میں تبدیلیاں، استعفے اور برطرفیاں بھی سامنے آئیں۔ اس صورتحال نے حکومت کے بارے میں عوامی تاثر کو مزید متاثر کیا۔
مقامی انتخابات میں لیبر پارٹی کی خراب کارکردگی کے بعد اسٹارمر پر مستعفی ہونے کا دباؤ بڑھ گیا۔ ابتدا میں انہوں نے مزاحمت کا فیصلہ کیا، تاہم بعد ازاں اپنی اہلیہ وکٹوریہ اسٹارمر سے مشاورت کے بعد مستعفی ہونے پر آمادگی ظاہر کر دی۔
ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر اپنے الوداعی خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ اقتدار کی منظم اور پُرامن منتقلی کو یقینی بنائیں گے۔ لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے اینڈی برنہم کو مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔
اسٹارمر نے جذباتی انداز میں اعتراف کیا کہ پارلیمانی پارٹی اب انہیں آئندہ انتخابات کے لیے موزوں رہنما نہیں سمجھتی۔
کیئر اسٹارمر نے 2015 میں پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں قدم رکھا تھا اور 2020 میں لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے پارٹی کو داخلی بحرانوں، بریگزٹ تنازعات اور یہود دشمنی کے الزامات سے نکالنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں لیبر پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئی۔
تاہم اقتدار سنبھالنے کے بعد حکومت کو اقتصادی ترقی، غیر قانونی ہجرت، صحت کے نظام اور دیگر اہم مسائل پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ عوام کی بڑی تعداد حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہ ہو سکی۔
ان کی حکومت سیاسی عطیات، پالیسیوں میں یوٹرن اور بعض متنازع تقرریوں کے باعث بھی تنقید کی زد میں رہی، جس سے ان کی ساکھ مزید متاثر ہوئی۔
بین الاقوامی سطح پر اسٹارمر کو نسبتاً بہتر پذیرائی ملی۔ انہوں نے یوکرین کے معاملے پر یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعاون کیا اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی کوششوں میں حصہ لیا۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے کی بھی کوشش کی، تاہم ایران کے معاملے پر اختلافات کے بعد دونوں رہنماؤں کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اسٹارمر کی سب سے اہم سیاسی میراث برطانیہ کے روایتی دو جماعتی نظام کا کمزور ہونا ہو سکتی ہے۔ حالیہ انتخابات میں ریفارم یو کے نے نمایاں پیش رفت کی جبکہ لیبر پارٹی کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی۔
اسٹارمر نے ریفارم یو کے کے بڑھتے اثرورسوخ کو اپنی سیاسی جدوجہد کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا تھا، لیکن بالآخر وہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔



