گلگت (ایم این این): گلگت بلتستان اسمبلی نے پیر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے ایڈووکیٹ امجد حسین کو بلا مقابلہ وزیر اعلیٰ منتخب کر لیا۔ یہ انتخاب نومنتخب اراکین کے حلف اٹھانے کے چند گھنٹوں بعد عمل میں آیا، جس کے ساتھ ہی خطے میں نئی حکومت کی تشکیل کا عمل مکمل ہو گیا۔
اس سے قبل پیپلز پارٹی کے عمران ندیم شگری بلا مقابلہ اسپیکر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ملک کفایت الرحمٰن بلا مقابلہ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے تھے۔
اسپیکر منتخب ہونے کے بعد عمران ندیم نے قائد ایوان کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا اور وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزدگی فارم جمع کرانے اور واپس لینے کے لیے شام 7:40 بجے تک کا وقت دیا۔
پیپلز پارٹی کے امیدوار ایڈووکیٹ امجد حسین نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، تاہم کسی دوسرے امیدوار نے میدان میں آنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ جس کے بعد اسپیکر نے رات 8 بجے انہیں بلا مقابلہ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کا اعلان کر دیا۔
اسی دوران اسپیکر نے مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صدر حافظ الرحمٰن کو قائد حزب اختلاف قرار دیا، کیونکہ اپوزیشن اراکین نے اس حوالے سے باضابطہ درخواست جمع کرائی تھی۔
اسمبلی اجلاس میں غیر معمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی۔ ایوان، پریس گیلری اور مہمانوں کے حصے میں سیاسی کارکنوں، صحافیوں، معزز شخصیات اور حامیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جبکہ کامیاب امیدواروں کے حق میں نعرے بازی بھی کی جاتی رہی۔
وی آئی پی گیلری میں پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل سید نیئر حسین بخاری، سیکریٹری اطلاعات قمر زمان کائرہ، گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ اور دیگر اہم سیاسی شخصیات موجود تھیں۔
اس سے قبل صبح کے اجلاس میں چھٹی گلگت بلتستان اسمبلی کے 30 اراکین نے حلف اٹھایا۔ ان میں 21 جنرل نشستوں پر منتخب اراکین، خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب چھ ارکان اور تین ٹیکنوکریٹس شامل تھے۔ تین حلقوں کے نتائج تاحال قانونی اور انتخابی کارروائیوں کے باعث زیر التوا ہیں۔
سبکدوش ہونے والے اسپیکر نذیر احمد نے صبح 10 بجے نومنتخب اراکین سے حلف لیا اور بعد ازاں اجلاس دوپہر تک ملتوی کر دیا۔
اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات کا شیڈول جاری کیا گیا جبکہ ایوان کی منظوری سے قواعد معطل کر کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیر اعلیٰ کے انتخابات ایک ہی روز منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
شگر سے منتخب ہونے والے عمران ندیم شگری نے اسپیکر جبکہ دیامر سے منتخب ہونے والے ملک کفایت الرحمٰن نے ڈپٹی اسپیکر کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ کسی اور امیدوار کی جانب سے کاغذات جمع نہ کرائے جانے پر دونوں رہنما بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔
حلف اٹھانے کے بعد اسپیکر عمران ندیم نے پارٹی قیادت اور اراکین اسمبلی کا اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ملک کفایت الرحمٰن سے ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کا حلف لیا۔
عمران ندیم شگری حلقہ جی بی اے-12 شگر سے منتخب ہوئے ہیں اور اس سے قبل 2004 میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر بھی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ دوسری جانب ملک کفایت الرحمٰن نے حلقہ جی بی اے-15 دیامر-ون (تنگیر) سے سابق وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔
7 جون کو ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی 13 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔ مسلم لیگ (ن) نے 9، استحکام پاکستان پارٹی نے 6 جبکہ مجلس وحدت المسلمین اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ایک آزاد امیدوار نے ایک، ایک نشست حاصل کی تھی۔
بعد ازاں مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی نے وزیر اعلیٰ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں تمام اہم آئینی عہدوں پر بلا مقابلہ انتخاب ممکن ہوا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نئی اسمبلی میں اتفاق رائے کے ساتھ حکومت کی تشکیل خطے میں سیاسی استحکام، مؤثر حکمرانی اور ترقیاتی منصوبوں کے فروغ کے لیے مثبت پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔ نئی حکومت کو اب عوامی مسائل کے حل، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، معاشی ترقی اور انتظامی اصلاحات جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا۔



